اسلام آباد:(نیوزڈیسک)پی آئی اے کی نیلامی کے لیے چار کمپنیوں نے کوالیفائی کرلیا، 75 فیصد شیئرز نیلام کیے جائیں گے، نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور تھیم تبدیل نہیں ہوگی، چار سال میں طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 38 کردی جائے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے امور پر اہم اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے حوالے سے تمام مراحل تیز رفتاری اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم نے پی آئی اے کی فلیٹ میں قابل پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے اور کی پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس کو پی آئی اے کی نجکاری اور اس حوالے سے بزنس پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے 4 پارٹیز کو پری کوالیفائی کیا گیا ہے، جلد پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے نیلامی ہوگی جس میں پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ نجکاری کے حوالے سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور اس کی تھیم نہیں بدلی جائے گی، بزنس پلان کے تحت 2029ء میں پی آئی اے فلیٹ میں قابل پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 38 کی جائے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس وقت قومی ایئر لائن 30 سے زائد شہروں میں سروس مہیا کر رہی ہے، بزنس پلان کی تحت 2029ء تک پی آئی اے کی سروس 40 سے زائد شہروں تک بڑھائی جائے گی۔

اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نجکاری کے حوالے سے پی ا ئی اے کی کی نجکاری جائے گی

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش