وفاقی آئینی عدالت: خیبر پختونخوا ملازمین برطرفی کیس کی سماعت، حکومت کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے نگراں حکومت کے دور میں تعینات ملازمین کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی اور سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا پاکستانی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے کے کیس میں اہم فیصلہ
ملازمین کے وکیل خوشحال خان نے عدالت کو بتایا کہ مؤکل کو نگراں حکومت کے دوران تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد بھرتی کیا گیا، مگر موجودہ منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 منظور کیا تھا، اور موجودہ حکومت کی بنیاد پر مؤکل کی برطرفی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: نئی گج ڈیم کیس: وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل جاری
عدالت نے محکمہ ہائی ایجوکیشن اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو اس کیس میں نوٹس جاری کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خیبر پختونخوا ملازمین برطرفی کیس وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ملازمین برطرفی کیس وفاقی آئینی عدالت وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا عدالت نے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔