وفاقی آئینی عدالت: یوٹیلیٹی اسٹور ملازم کی برطرفی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے یوٹیلیٹی اسٹور کے برطرف سیل مین مزمل رفیق کی برطرفی کے کیس میں سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
عدالت نے درخواست گزار کو کیس کی تیاری کے لیے وقت دیا اور وکیل سے مشورہ لینے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آج سے بند، ملازمین کے لیے 28 ارب کا پیکج منظور
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے اور عدالت میں براہِ راست درخواست دائر کرنے کے بجائے قانونی مشورہ لیا جائے۔ عدالت نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے آئندہ سماعت میں وضاحت طلب کی۔
درخواست گزار مزمل رفیق نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ سے برطرفی کے خلاف انہوں نے انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی تھی اور عدالت نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس رضوی نے استفسار کیا کہ یوٹیلیٹی اسٹور سے کتنی خورد برد ہوئی اور اس سے عوام کو نقصان کے بجائے اسٹاف نے فائدہ اٹھایا، اور کہا کہ کروڑوں اربوں کا نقصان ہوا۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو تحلیل کرنے کی منظوری دے دی
مزمل رفیق نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں 12 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا، جس پر جسٹس رضوی نے کہا کہ 12 ہزار ملازمین کی نہیں، آپ اپنی بات کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس حسن اظہر رضوی وفاقی آئینی عدالت یوٹیلیٹی اسٹور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس حسن اظہر رضوی وفاقی آئینی عدالت یوٹیلیٹی اسٹور وفاقی آئینی عدالت یوٹیلیٹی اسٹور عدالت نے کے لیے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔