ایرانی جوہری مذاکرات میں موجودہ تعطل کے ذمہ دار مغربی ممالک ہیں، ماسکو
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
ویانا میں بین الاقوامی اداروں کیلئے روس کے مستقل نمائندے نے خبردار کیا ہے کہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی ایران مخالف قرارداد کے نتائج مستقبل قریب میں واضح ہو جائینگے! اسلام ٹائمز۔ ویانا میں روس کے مستقل نمائندے میخائیل اولیانوف نے خبردار کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ایرانی جوہری مذاکرات میں موجود تعطل کا ذمہ دار مغرب ہے۔ تفصیلات کے مطابق روسی خبررساں ایجنسی ریانووستی کے ساتھ انٹرویو میں میخائیل اولیانوف نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی نئی ایران مخالف قرارداد کے نتائج پر خبردار کرتے ہوئے روسی نمائندے نے تاکید کی کہ ہم ان نتائج کا مستقبل قریب میں مشاہدہ کر لیں گے جبکہ جوہری انسپکٹرز کی ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی کے طریقہ کار کے بارے آئی اے ای اے کے ساتھ طے پانے والے قاہرہ معاہدے کے خاتمے پر تہران از قبل ہی رد عمل کا اظہار کر چکا ہے۔
سینئر روسی سفارتکار نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال عملی طور پر "مکمل تعطل" تک جا پہنچی ہے جبکہ اس کی پوری ذمہ داری یورپی ٹرائیکا (برطانیہ، جرمنی اور فرانس) کے ساتھ ساتھ امریکہ کی گردن پر بھی عائد ہوتی ہے۔ میخائیل اولیانوف نے تاکید کی کہ وہ واضح طور پر یہ بات مسلسل دہراتے رہتے ہیں کہ "یہ سفارتکاری کا خاتمہ نہیں" لیکن درحقیقت یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ مغربی ممالک کی کوششوں کے باوجود "سفارتکاری از قبل مر چکی تھی"! انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی قراردادیں اُس وقت منظور نہیں کی جاتیں کہ جب سفارتکاری حقیقی طور پر کام کر رہی ہو.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔