بھارتی پولیس حکام کے سینئر افسر نے خود کشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی پولیس حکام کے سینئر افسر نے خود کشی کرلی
نئی دہلی: بھارتی ریاست ہریانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے خود کشی کرلی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے ایک آئی پی ایس افسر نے چندی گڑھ میں واقع اپنے گھر میں گولی مار کر خود کشی کرلی۔ رپورٹ کے مطابق پورن کمار نامی افسر ہریانہ پولیس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تعینات تھا جو کہ بھارتی پولیس سروس میں ایک اعلیٰ رینکنگ پوزیشن ہے۔
حکام کے مطابق مذکورہ افسرروہتک کے سوناریہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں متعین تھا۔ سینئر پولیس افسر کی خودکشی کا واقعہ اس کے گھر پر پیش آیا، تاہم فوری طور پر اس اقدام کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے جبکہ دوسری طرف واقعے کی اطلاع پر پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ افسر کا پولیس ٹریننگ سینٹر روہتک میں 29 ستمبر کو تبادلہ ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خود کشی کرلی افسر نے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔