بھارت میں کھانسی کا سیرپ پینے سے 14 بچے جاں بحق، دوا پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت کی مختلف ریاستوں میں کھانسی کا شربت پینے سے 14 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعات مدھیہ پردیش، راجستھان اور تامل ناڈو میں پیش آئے، جن میں سب سے زیادہ 11 اموات مدھیہ پردیش میں ہوئیں۔ واقعے کے بعد ملک کی متعدد ریاستوں میں مذکورہ کھانسی کے سیرپ پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سیرپ میں زہریلے کیمیکل کی خطرناک مقدار پائی گئی، جس کے باعث دواساز کمپنی کے خلاف کرمنل مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ڈاکٹر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق کمپنی پر ادویات میں ملاوٹ اور ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جب کہ متاثرہ ریاستوں میں سیرپ کے تمام اسٹاک کو ضبط کرلیا گیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔