بھارت میں کھانسی کا سیرپ پینے سے 14 بچے جاں بحق، دوا پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت کی مختلف ریاستوں میں کھانسی کا شربت پینے سے 14 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعات مدھیہ پردیش، راجستھان اور تامل ناڈو میں پیش آئے، جن میں سب سے زیادہ 11 اموات مدھیہ پردیش میں ہوئیں۔ واقعے کے بعد ملک کی متعدد ریاستوں میں مذکورہ کھانسی کے سیرپ پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سیرپ میں زہریلے کیمیکل کی خطرناک مقدار پائی گئی، جس کے باعث دواساز کمپنی کے خلاف کرمنل مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ڈاکٹر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق کمپنی پر ادویات میں ملاوٹ اور ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جب کہ متاثرہ ریاستوں میں سیرپ کے تمام اسٹاک کو ضبط کرلیا گیا ہے تاکہ مزید جانی نقصان روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔