چین کا مقابلہ، امریکی محکمہ دفاع نے نیکسٹ جنریشن جنگی طیارے کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
چین کا مقابلہ، امریکی محکمہ دفاع نے نیکسٹ جنریشن جنگی طیارے کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کئی ماہ کی تاخیر کے بعد نیکسٹ جنریشن سٹیلتھ جہاز کی تیاری کے لیے دفاعی کمپنی کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔ اس جنگی طیارے کو چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنا کی امریکی کوششوں میں مرکزی حیثیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خبر رساں ادارے اے روئٹرز کے مطابق سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزتھ رواں ہفتے دفاعی کمپنی کا اعلان کریں گے جس کا انتخاب اربوں ڈالر کی مالیت کے اس جنگی جہاز کی تیاری کے لیے کیا جائے گا۔ایف اے ایکس ایکس نامی یہ طیارہ نیوی کے ایف اے 18 ای ایف سپر ہارنیٹ کی جگہ پر لایا جا رہا ہے جو 1990 کی دہائی سے امریکی نیوی کا حصہ ہے۔
یہ طیارہ جدید سٹیلتھ صلاحیتوں سے لیس ہوگا، جس کی رینج پچھلے طیاروں کے مقابلے میں زیادہ ہو گی جبکہ یہ بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیاروں اور بحریہ کے فضائی دفاعی نظام کے ساتھ بھی کام کرنے کی قابلیت رکھتا ہوگا۔چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے جون میں اراکین کانگریس کو ایف اے ایکس ایکس کی ضرورت کے حوالے سے آگاہ کیا تھا اور بحرالکاہل میں خطرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔مارچ میں بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ امریکی نیوی جلد طیارہ ساز کمپنی کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے اعلان کرنے جا رہی ہے تاہم کانگریس اور پینٹاگون کے درمیان فنڈنگ تنازعے پر معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا تھا۔
روئٹرز کے مطابق پینٹاگون نے پروگرام سے متعلق ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کی غرض سے 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی منظوری کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم جدید طیارے کی تعداد اور پروگرام کی اصل لاگت کے حوالے سے معلومات خفیہ رکھی گئی ہیں اگرچہ ماضی میں ہونے والے اس نوعیت کے معاہدوں کی لاگت اربوں ڈالر کی رہی ہے۔
علاوہ ازیں امریکہ نیوی نے 270 سے زائد ایف 35 سی طیارے خریدنے ک بھی امکان ظاہر کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا دورہ ملائیشیا، دفتر خارجہ نے21 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا، دفتر خارجہ نے21 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کی تبدیلی پر غور، ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کی واپسی کا امکان این پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہ افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔