غزہ کو ملیا میٹ کردیا گیا، انسانیت پر اتنے مظالم ہوئے کہ ہٹلر کی روح بھی کانپ گئی، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ فلسطینی رہنماؤں کی حمایت کے بغیر کوئی بھی معاہدہ قابل قبول نہیں، اقوام متحدہ اور عالمی عدالت معاہدہ کی بجائے انصاف کا پرچم بلند کرے ،اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی کاروائی کو یقینی بنایا جائے، اسرائیل کے خلاف عالمی قوانین کے تحت کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی تو پائیدار امن صرف خواب ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ صہیونی فوج کی وحشیانہ کاروائیوں سے غزہ میں 67 ہزار سے زائد شہید اور ایک لاکھ 70 ہزار زخمی ہوچکے ہیں، غزہ کو ملیا میٹ کردیا گیا، انسانیت پر اتنے مظالم ہوئے کہ ہٹلر کی روح بھی کانپ گئی، فلسطین و غزہ کے شہدا کے خون کا حساب اسرائیل، امریکا اور بھارت کو دینا ہوگا، امریکا اور بھارت اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات اور مسلم نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں، ویٹو پاور کے ذریعے اسرائیل کو دہشتگردی کی کھلی اجازت دی گئی، اسرائیلی ناکہ بندی سے 20 لاکھ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں، اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں غزہ کھنڈر بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت پر مرکزی کابینہ کے اجلاس میں غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیل کے انسانیت سوز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔
شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اسرائیل نے بچوں اور خواتین کا نشانہ بنایا اور اسپتالوں، اسکولوں، مسجدوں پر حملے کئے جو عالمی قوانین کو روندنے کے مترادف ہے، غزہ کے حالات و واقعات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، مسلم حکمرانوں کے ضمیر مردہ ہوگئے ہیں، امت مسلمہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کیلئے بھرپور احتجاج کررہے ہیں اور او آئی سی مذمت سے کام چلا رہی ہے، او آئی سی فلسطین کے عوام کی نسل کشی پر سخت اسٹینڈ لیتی تو اسرائیل میں جرات نہ ہوتی کہ وہ مسلم نسل کشی کرے، عالمی انصاف کے اداروں کی بے بسی مجرمانہ غفلت دنیا کے امن کیلئے کسی طور بھی اچھا نہیں ہے، 7 اکتوبر سیاہ ترین دن ہے اس دن اسرئیل نے غزہ پر ظالمانہ غاصبانہ کاروائیاں کرکے غزہ کے مظلوم نہتے عوام پر حملے کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے غزہ کے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔