Express News:
2026-06-03@05:39:36 GMT

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کردیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

غزہ:

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کرتے ہوئے ملک بدر کردیا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ غزہ کے امدادی سامان لے کر جانے والے صمود فلوٹیلا کے حراست میں لیے گئے ارکان میں سے مزید 29 کو رہا کردیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صمود فلوٹیلا کے گرفتار ہونے والے 450 سے میں اب تک 170 ارکان کو واپس بھیج دیا گیا ہے اور متعدد ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے تشدد کیے جانے کی شکایت کی ہے اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے تشدد کے حوالے سے بتایا کہ گرفتار کارکنوں کے قانونی حقوق کا احترام کیا جا رہا ہے تاہم چند افراد نے ملک بدری کے احکامات پر دستخط نہیں کیا، اس لیے72 گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے لیکن جلد ہی ان کی ملک بدری کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے فلوٹیلا کشتیوں سے گرفتار کیے گئے اطالوی رضاکاروں کو ملک بدر کردیا

اسرائیل میں موجود صمود فلوٹیلا کے ارکان کے قانونی ماہرین نے بتایا کہ متعدد ارکان نے بدتمیزی اور جسمانی تشدد کا الزام عائد کیا ہے، اسی طرح ادویات دینے سے انکار اور طبی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں اور ایک مسلمان خاتون کو حجاب اتارنے پر مجبور کیا گیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 43 کشتیوں کوغزہ پہنچنے سے پہلے روک کر اس میں سوار رضاکاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے خوراک اور دوائیں تھیں جو مذکورہ رضاکار غزہ پہنچ کر خود تقسیم کرنا چاہ رہے تھے۔

اس فلوٹیلا میں دنیا کے مختلف ممالک سے رضاکار شامل تھے، جن میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اسپین کے شہر بارسلونا کی سابق میئر ادا کولو، یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن اورپاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت برازیل، ملائیشیا، فرانس اور دیگر ممالک کے رضاکار شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا کے

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر