Express News:
2026-07-24@05:17:27 GMT

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کردیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

غزہ:

اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان کو رہا کرتے ہوئے ملک بدر کردیا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ غزہ کے امدادی سامان لے کر جانے والے صمود فلوٹیلا کے حراست میں لیے گئے ارکان میں سے مزید 29 کو رہا کردیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صمود فلوٹیلا کے گرفتار ہونے والے 450 سے میں اب تک 170 ارکان کو واپس بھیج دیا گیا ہے اور متعدد ارکان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے تشدد کیے جانے کی شکایت کی ہے اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے تشدد کے حوالے سے بتایا کہ گرفتار کارکنوں کے قانونی حقوق کا احترام کیا جا رہا ہے تاہم چند افراد نے ملک بدری کے احکامات پر دستخط نہیں کیا، اس لیے72 گھنٹوں کی تاخیر ہوئی ہے لیکن جلد ہی ان کی ملک بدری کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے فلوٹیلا کشتیوں سے گرفتار کیے گئے اطالوی رضاکاروں کو ملک بدر کردیا

اسرائیل میں موجود صمود فلوٹیلا کے ارکان کے قانونی ماہرین نے بتایا کہ متعدد ارکان نے بدتمیزی اور جسمانی تشدد کا الزام عائد کیا ہے، اسی طرح ادویات دینے سے انکار اور طبی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں اور ایک مسلمان خاتون کو حجاب اتارنے پر مجبور کیا گیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل 43 کشتیوں کوغزہ پہنچنے سے پہلے روک کر اس میں سوار رضاکاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں پر غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے خوراک اور دوائیں تھیں جو مذکورہ رضاکار غزہ پہنچ کر خود تقسیم کرنا چاہ رہے تھے۔

اس فلوٹیلا میں دنیا کے مختلف ممالک سے رضاکار شامل تھے، جن میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اسپین کے شہر بارسلونا کی سابق میئر ادا کولو، یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن اورپاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت برازیل، ملائیشیا، فرانس اور دیگر ممالک کے رضاکار شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا کے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم