صمود فلوٹیلا کے شرکا کی استنبول آمد پر جذباتی مناظر ، اطالوی کارکن نے اسلام قبول کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
صمودگلوبل فلوٹیلا کے قافلے میں شامل اطالوی سماجی کارکن ٹومی رابنسن نے اسرائیلی جیل میں اسلام قبول کر لیا۔ ان کی استنبول آمد پر ساتھی کارکنوں نے انہیں خوشی سے گلے لگا کر خوش آمدید کہا، جبکہ کئی ساتھی جذبات سے آبدیدہ ہوگئے۔ ترک سماجی کارکن بکیر دیویلی کے مطابق، “ٹومی نے قید کے دوران اسلام قبول کیا۔ جب ہم نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے انہیں مبارکباد دی، تو اسرائیلی پولیس نے فوراً انہیں دوبارہ جیل میں ڈال دیا۔ میں نے اس لمحے کہا، ’ٹومی، تم نے اسلام قبول کرنے کی قیمت دسویں سیکنڈ میں ہی چکا دی‘۔” 137 کارکن استنبول پہنچ گئے، 450 اب بھی اسرائیلی حراست میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے صمود فلوٹیلا کے 137 بین الاقوامی رضاکار استنبول پہنچ گئے ہیں۔ ان میں 36 ترک شہریوں کے علاوہ امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، بحرین، مراکش، سوئٹزرلینڈ اور تیونس سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔ تاہم فلوٹیلا کے 450 سے زائد سماجی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں، جن میں پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ “ہم سے جانوروں جیسا سلوک کیا گیا” – کارکنوں کے چشم دید بیانات استنبول پہنچنے والے کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے دوران پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتے ہوئے لرزہ خیز انکشافات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اسرائیلی فوج نے ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے ہم انسان نہیں، جانور ہوں۔” ترک صحافی ایرسن سیلک نے بتایا کہ صمود فلوٹیلا کے متعدد رضاکاروں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا گیا۔ ان کے مطابق عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ “گریٹا کو زمین پر گھسیٹا گیا، اذیت دی گئی اور اسے زبردستی اسرائیلی پرچم چومنے پر مجبور کیا گیا۔ حالانکہ وہ کم عمر ہے، مگر اس کے ساتھ بھی کسی قسم کی رعایت نہیں برتی گئی،” ایرسن نے بتایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلوٹیلا کے اسلام قبول نے والے کیا گیا
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :