دبئی ایئر شو: پاکستانی اور اماراتی طیاروں کی مشترکہ پرواز، جےایف 17 تھنڈر نے دھاک بٹھادی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی ایئر شو میں جےایف 17 تھنڈر نے دھاک بٹھادی، پاکستانی اور اماراتی طیاروں کی شاندار پرواز نے شرکا کے دل جیت لیے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی ائیر شو 2025 کا آغاز المکتوم انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر شاندار فضائی کرتب کے ساتھ ہوا جس میں دنیا بھر کی فضائی اور دفاعی صنعت کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے طیارے ڈسپلے ایریا میں ایک دوسرے کے بالکل قریب کھڑے رہے جس نے شائقین اور ماہرین کی خاص توجہ حاصل کی۔
فضا مسلسل رنگا رنگ کرتبوں سے گونجتی رہی، جب مختلف ممالک کے جنگی اور تجارتی طیاروں نے انتہائی مہارت سے فلائنگ ڈسپلے پیش کیے۔
شرکا نے اونچی پروازوں، تیز رفتاری کے مظاہروں اور فارمیٹ میں کی گئی فضائی مظاہرے کو بے حد سراہا۔
پاکستان کا جے ایف 17 تھنڈر اس بار بھی سب کی آنکھوں کا مرکز رہا۔
رواں برس ماہ مئی کے معرکے میں پاکستانی فضائیہ کے کامیابی کو دبئی ائیر شو میں بھی محسوس کیا جارہا ہے بلکہ متعدد ملکی اور غیر ملکی شرکا سبزہلالی پرچم سے سجے پاکستانی طیاروں کو دیکھ کر خوب تصاویر بنواتے ہوئے نظر آئے۔
اس کے ساتھ پاکستانی پائلٹس کی صلاحتیوں کا اعتراف کے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
پاکستانی اور اماراتی طیاروں کی مشترکہ پرواز نے شرکا کے دل جیت لیے، پاکستانی پائلٹس کے شاندار مہارت پر شرکا نے خوب داد دی۔
پانچ روزہ ائیر شو میں عالمی سطح پر نئے دفاعی معاہدوں، ٹیکنالوجی لانچز اور روزانہ کی فلائنگ ڈسپلے جاری رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔