گلوبل صمود فلوٹیلا کے اطالوی کپتان نے اسرائیلی جیل میں اسلام قبول کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
انقرہ: غزہ کے لیے روانہ ہونے والےگلوبل صمود فلوٹیلا کے دوران اسرائیلی فوج کی قید میں رہنے والے اطالوی کپتان توماسو بورٹولازی نے اسرائیلی جیل میں اسلام قبول کرلیا۔
اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد ترکی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اطالوی کپتان نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں فلوٹیلا میں شمولیت اختیار کی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ انسانیت کے لیے ان کی بہترین خدمت ہوگی۔
عالمی میڈیا کے مطابق توماسو بورٹولازی فلوٹیلا میں شامل کشتی ماریا کرسٹن کے کپتان تھے، جنہیں اسرائیلی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا جب فلوٹیلا غزہ کی محصور آبادی تک امداد پہنچانے کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں سفر کر رہی تھی۔
توماسو نے جیل میں اپنے ایام کے بارے میں بتایا کہ اسرائیلی جیل میں حالات نہایت سخت تھے، ان کے بیشتر ساتھی ترکی سے تعلق رکھتے تھے اور تقریباً سب مسلمان تھے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جب مسلمان قیدی نماز ادا کرتے تو اسرائیلی فوجی انہیں روکنے کی کوشش کرتے اور اسی دوران انہیں اسلام کی روحانیت اور مسلمانوں کے عزم سے گہرا اثر ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے خود اپنے دل سے اسلام قبول کیا، یہ میرا شعوری فیصلہ تھا، اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرا نیا جنم ہوا ہے،توماسو بورٹولازی کے اس اقدام کو ترکی اور عالمی انسانی حقوق کے حلقوں نے سراہا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق وہ آئندہ بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جیل میں
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔