حکومت اور ہائبرڈ نظام کو کس نے اجازت دی وہ قائداعظم کی پالیسی تبدیل کریں، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور:۔ نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ہائبرڈ نظام کے زہریلے نتائج قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔ لیاقت بلوچ نے بہادر شاہ شیخوپورہ میں معروف سیاسی، سماجی رہنما پیر نوبہار شاہ کے بھائی کے انتقال پر تعزیت اور منصورہ میں مشاورتی اجلاس اور طلبہ سے خطا ب اور علما کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہائبرڈ نظام کے زہریلے نتائج مسلسل قومی سلامتی اور وحدت کے لیے خطرناک شکل اختیار کررہے ہیں۔
پاک-سعودی معاہدہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیراعظم، فیلڈ مارشل کی ملاقاتیں اور فلسطین امن امریکی منصوبہ پر حکومت کا یکطرفہ طور پر حمایت اور تسلیم کرنے کے اعلان اور فیصلے سے عوام، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومتی اتحادی حلقے تو کیا کابینہ بھی بے خبرہے۔ حکومت اور ہائبرڈ نظام کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر پر قائداعظم کی پالیسی کو تبدیل کریں، عالمی محاذ پر متنازع سرگرمیوں سے قوم کو بے خبررکھیں ؟
امن کے نام پر امریکی منصوبہ سراسر اسرائیلی صیہونی بالادستی کا منصوبہ ہے۔ گزشتہ 2 سال کے دوران غزہ میں تقریباً 66 ہزار فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کو کلین چِٹ دے کر اور اسرائیلی کابینہ، اسرائیلی فوج کو غزہ میں بدترین جنگی جرائم، نسل کشی، بھوک، پیاس مسلط کرنے جیسے سنگین جرائم سے بری الذمہ قرار دے کر فلسطینی عوام کی منتخب نمائندہ تنظیم حماس کو مذاکراتی عمل سے باہر اور غزہ کے مستقبل کے حکومتی سیٹ اپ سے بے دخل کرنے کی تجویز پیش کرکے امریکی صدر ٹرمپ نے ناجائز اسرائیلی ریاست کے جرائم میں سہولت کاری و سرپرستی کا جرم کیا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی حمایت، فلسطینیوں کے قتلِ عام کے لیے اس کو بے دریغ اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کی فراہمی کے جرم میں سابق اور موجودہ امریکی صدور کا مواخذہ کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے اِن سب چیزوں کو یکسر نظرانداز کرکے ہماری حکومت انہیں “امن کا علمبردار” اور نوبل انعام کا حقدار قرار دے رہی ہے، پاکستانی حکمرانوں کے لیے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
انہوں نے کہاکہ فلسطین کے مسئلہ کا حل امریکہ نہیں عالمِ اسلام کے اتحاد اور جرا ¿ت مندانہ اقدامات سے ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف فلسطین پر حکومتی حکمتِ عملی اور اقدامات کے حوالے سے بلاتاخیرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی کانفرنس بلاکر قوم کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کریں۔ حکومتی اتحادیوں کا باہمی مفاد عجب تماشا ہے۔ ہائبرڈ نظام ملک کے لیے زہرِ قاتل بن رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی میں رسہ کشی کے کیا مقاصد ہیں؟ اب فارم 47 والے ہائبرڈ نظام کے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ