اپنے ایک بیان میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی قومی قیادت کیخلاف دل آزار باتیں کام نہیں آئیں، موجودہ حکمرانوں کو بھی دل آزار باتیں کام نہیں آئیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماع عام جماعت اسلامی کی تیاریوں کی فل ڈریس ریہرسل آج ہوگی۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا کُل پاکستان اجتماع عام 21 تا 23 نومبر کو لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تحفتاً آزاد کشمیر کی حکومت پیپلز پارٹی کی جھولی میں ڈال دی جائے گی۔ اپنے ایک بیان میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی قومی قیادت کیخلاف دل آزار باتیں کام نہیں آئیں، موجودہ حکمرانوں کو بھی دل آزار باتیں کام نہیں آئیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماع عام جماعت اسلامی کی تیاریوں کی فل ڈریس ریہرسل آج ہوگی۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا کُل پاکستان اجتماع عام 21 تا 23 نومبر کو لاہور میں منعقد ہوگا۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ ملک بھر کی تمام مذہبی و سیاسی شخصیات کو اجتماع میں شرکت کی دعوت دیدی گئی ہے۔ اہل تشیع کی نمائندگی تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کریں گے جبکہ دیگر عمائدین بھی شریک ہوں گے۔ اجتماع میں جماعت اسلامی کے سابق امراء سمیت طلبہ رہنماء، وکلا، سیاستدان، مذہبی پیشواء مختلف مذاہب کی نمائندہ شخصیات بھی شریک ہوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دل آزار باتیں کام نہیں آئیں جماعت اسلامی کو بھی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی