27ویں ترمیم کی منظوری پر سپریم کورٹ کے رکن لاء اینڈ جسٹس کمیشن مخدوم علی خان مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈووکیٹ مخدوم علی خان بطور رکن لاء اینڈ جسٹس کمیشن مستعفی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس پاکستان کو بجھوا دیا جس میں انہوں ںے کہا کہ میں ایسے ادارے کا رکن بن کر نہیں رہ سکتا جو قانون کی اصلاح کے وعدے پر قائم ہو مگر خود آزاد عدلیہ سے محروم ہو۔
استعفی کے متن میں کہا گیا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی قانون اصلاح نہ ممکن ہے نہ مؤثر، ان حالات میں جاری رہنا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔
ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے مزید لکھا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے آزاد عدلیہ کا جہاز مکمل ڈبو دیا۔
انہوں نے استعفی میں شاعر مصطفیٰ زیدی کا شعر لکھا:
لٹ گئی شہر حوادث میں متاعِ الفاظ اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مخدوم علی خان
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔