گھوٹکی: پولیس کا کچے میں شرگینگ کیخلاف آپریشن، 12 ڈاکو ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھرکی( نمائندہ جسارت/نمائندہ جسارت) گزشتہ رو زگھوٹکی کے علاقے رونتی کچے میںشر گینگ کے مسلح افراد نے سلیرو اور دھوندو برادری کے گھروںمیں گھس کر جدید اسلحہ سے فائرنگ کرکے 6افراد کو قتل اور ایک خاتون سمیت 6افراد کو زخمی کردیا تھا، موقع پر پہنچنے پر ملزمان نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی جس کی وجہ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا، وزیرداخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی جس کے تناظر میں جمعہ کے روز کچے میں پولیس و رینجرز نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے شرگینگ کے 12ڈاکوہلاک کردیے ۔تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے رونتی میں گزشتہ روز مسلح ہتھیار بندوں کے ہاتھوں 6 افراد کے قتل اور 6 کے زخمی ہونے کے بعد حملہ آوروں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید اور 2 کے شدید زخمی ہونے کے بعد ضلع گھوٹکی کی پولیس اور انتظامیہ میں شدید کھلبلی مچ گئی۔جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ شر گینگ کے خلاف جاری مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن کیا،کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب ڈاکو مارا گیا ، مارے جانے والے ڈاکو کی شناخت شاہو کوش کے نام سے ہوئی ہے۔ جس نے کچھ عرصہ قبل ہی میں ضلع رحیم یارخان پنجاب کے 12 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا تھاجس پرپنجاب حکومت کی جانب سے ڈاکو کے زندہ یا مردہ پکڑنے پر سر کی قیمت 50 لاکھ مقرر کر رکھی تھی سمیت12 کے لگ بھگ ڈاکو مارے گئے ہیں جن میں سے 6 ہلاک شدہ ڈاکوؤں کی لاشیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے کراسپتال منتقل کردیں جبکہ بقایا6 ڈاکوؤں کی لاشیں انکے ساتھی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔