آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان ہوگا: اعظم نزیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔
سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے، الیکشن کمیشن کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اگر آپ ووٹ دیں تو پارٹی سربراہ چیئرمین یا اسپیکر کو ریفرنس بھیج سکتا ہے، ریفرنس آیا ہو تو چیئرمین رکن کو جواب کا موقع دیں گے، پھر الیکشن کمیشن بھیجتے ہیں، پھر الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد فیصلہ ہوتا ہے اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے، جب تک یہ کارروائی نہیں ہوتی وہ ارکان رکن ہیں، رکن کو تحریری استعفیٰ دینا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو رکن کو کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کو ایوان واپس لے آئیں گے، اکثر یہ ہوتا ہے کہ رکن کو پارٹی کی ہدایت ملی نہیں ہوتی۔
اس پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شاہ محمود نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا تھا میں استعفیٰ دے رہا ہوں، میرے پاس ابھی تک رکن کا کوئی تحریری استعفیٰ نہیں آیا ہے، جب استعفیٰ دیتے تو میرے پاس آتا، کسی رکن نے استعفیٰ نہیں دیا، ان کا استعفیٰ نہ آیا ہے نہ منظور ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس پاکستان رکن کو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔