data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-01-16
لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیر اعظم مقرر کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ چیف جسٹس عدالت عظمیٰ کردیا گیا۔حکومت اپنے مفادات کے لیے آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔ جماعت اسلامی 26ویں ترمیم کے وقت بھی آئین کے ساتھ تھی اور آج بھی ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان عدل لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری مبشر رحمن ایڈووکیٹ،نائب صدر ملک سیف کھوکھر ایڈووکیٹ اور صدر اسلامک لائرز موومنٹ کلیم جاوید بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور جماعت اسلامی کی جدوجہد ملک میں آئین و قانون کے تحفظ کے لیے ہے۔اگر متفقہ آئین کو اسی طرح بازیچہِ اطفال بنایا جاتا رہا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ملکی سلامتی اور فیڈریشن کی سا لمیت کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی حفاظت کے لیے قوم متحد ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان شاء اللہ آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کرا کر رہیں گے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ہمارا موقف واضح تھا، اب 27 ویں ترمیم بارے بھی آنیاں جانیاں لگی رہیں لیکن جماعت اسلامی کا موقف وہی ہے جو26ویں ترمیم کے وقت تھا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں دو ٹوک انداز میں لکھا ہے حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔آئین اور اسلام کسی شخص کو خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ منصب پر کیوں نہ ہو اسے استثنا نہیں دیتا۔ خلفائے راشدین نے عدالتوں میں پیش ہوکر آئین و قانون کی بالادستی کی بہترین مثال قائم کی۔اسلام بڑے سے بڑے طاقتور کو بھی استثنا نہیں دیتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کیاجائے۔مسلط نظام پاکستانی عوام کے بچوں کو تعلیم نہیں دے رہا۔ امیر اورغریب میں خلیج وسیع ہورہی ہے اور یہ تقسیم اسکولوں میں بھی پہنچ گئے ہے۔تعلیم،صحت اور روزگار حکومت کی کسی ترجیح میں نہیں۔حکمران دعوے کرتے ہیں کہ معیشت بہتر ہورہی ہے جبکہ عام آدمی کی زندگی ابتر ہوگئی ہے۔اسٹاک ایکسچینج اوپر جارہی ہے اور عوام کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزانے پر مجبور ہے۔شہباز شریف اسٹاک ایکسچینج کے مطابق کہتے ہیں معیشت درست سمت جارہی ہے جبکہ محلے کی دکان پر جائیں تو اندازہ ہوگا کہ ملک میں مہنگائی کس قدر بڑھ چکی ہے اور عام آدمی کن مسائل سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم ان شخصیات کے ہاتھوں دھوکا کھاتی ہے جن کو مصنوعی طور پرلیڈر بنایا جاتا ہے۔ ہمیں ظلم و جبر کے اس نظام کو بدلنے کے لیے طویل جہدوجہد کرنا ہوگی۔ کبھی نعروں اور کبھی کسی خاندان کے ہاتھوں قوم کو یرغمال بنا دیا جاتا ہے۔ یہاں خاندانوں کی جماعتیں ہیں اور چند خاندان عشروں سے عوام کا استحصال کررہے ہیں۔پیسے والا سینیٹر بنتا ہے پھر ان سینیٹرز کو خرید لیا جاتا ہے۔جس کے سر پر اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہوتا ہے وہ زندہ باد اور باقی مردہ باد۔2015 سے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے۔اب لوکل گورنمنٹ ایکٹ لے کر آئے ہیں تاکہ غیر جماعتی الیکشن کرائے جاسکیں۔ یہ پُرفریب سیاست اور نظام عام آدمی نہیں اشرافیہ کے مفاد میں اس کو بدلنے کی تحریک نومبر کے آخری ہفتے مینار پاکستان سے شروع کریںگے۔اس لیے وکلا اور پوری قوم سے کہتے ہیں کہ وہ اجتماع عام میں شریک ہو کر تبدیلی کے ہمرکاب بن جائیں۔

لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایوان عدم میں قومی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی نے کہا کہ چیف جسٹس کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی