سپریم کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ افریدی کو ایک پر زور خط لکھا ہے. جس میں عدلیہ کو لاحق خطرات پر غور کے لیے ایک کانفرنس بلانے کی درخواست کی گئی ہے اور ساتھ ہی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کو بعض اوقات عوام کی رائے دبانے کے لیے ’غیر منتخب اشرافیہ‘ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔یہ پیش رفت منگل کو اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری کے لیے اقدامات کر رہی ہے.

سینیٹ سے منظور ہونے والا یہ بل عدلیہ اور فوجی قیادت سے متعلق کئی اہم تبدیلیوں پر مشتمل ہے۔جج اطہر من اللہ نے ڈان کو دستیاب 7 صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ ’یہ خط وہ یہ آئین کے احترام اور ایک سنجیدہ فریضہ کے طور پر لکھ رہے ہیں .تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ریکارڈ رہے کہ ان کی تقدیر کس طرح عدالت عظمیٰ کی سنگ مرمر کی دیواروں کے پیچھے طے کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خط حالیہ واقعات کے پیش نظر لکھا جا رہا ہے. جنہوں نے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ ادارے ایک دن میں نہیں بنائے جاتے، مگر خوف، ہتھیار ڈالنے یا طاقت کے سامنے جھک کر وہ بہت جلد تباہ ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی تاریخ بے داغ یا قابل تعریف نہیں.لیکن اس کی ماضی کی ناکامیاں چاہے کتنی بھی سنگین کیوں نہ ہوں. عدلیہ کو غیر منتخب اشرافیہ کے مفادات کے تابع رکھنے کا جواز نہیں دیتیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کے طور پر ان کا فریضہ ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو لاحق خطرات پر آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے آئین کے تحفظ کی قسم اٹھائی تھی .لیکن وہ اکثر اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں کیونکہ عوام کو دیے گئے بنیادی حقوق اکثر محض نعروں یا باتوں تک محدود ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’میں نے آئین کے دفاع، تحفظ اور بقا کی قسم اٹھائی تھی. لیکن خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں کیونکہ عوام کے لیے جو بنیادی حقوق آئین میں محفوظ کیے گئے ہیں، وہ اکثر محض نعروں یا الفاظ تک محدود رہ گئے ہیں.ہم اس کے برعکس دکھاوا کرسکتے ہیں لیکن اعلیٰ عدالت کے جج اور آئین کے محافظ کے طور میرے لیے حقیقت ناخوشگوار اور شرمناک ہے‘۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حقیقت کو عوام سے بہت عرصے تک چھپایا گیا ہے اور انہیں غلط معلومات دی گئیں تاکہ اشرافیہ کا قبضہ قائم رہ سکے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے آغاز سے ہی ریاست کی تاریخ میں کچھ ریاستی اداروں اور مضبوط اشرافیہ کے درمیان ایک غیر اخلاقی اتحاد رہا ہے.جس کی علامت کنٹرول، خصوصی مراعات اور بے قابو ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اکثر عوام کی رائے محفوظ رکھنے کے بجائے اسے دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔خط میں انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ نے طاقت کے سامنے جھک کر عوام کے حق میں فیصلے دینے میں ناکامی دکھائی ہے، انہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی معزولی اور پھانسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے اعتماد اور ہمارے حلف کے ساتھ سب سے بڑی اور ناقابل معافی خیانت تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو ’غیر منتخب عناصر‘ نے ہراساں کیا، نواز شریف اور ان کی بیٹی کو ہراساں کیا گیا، ’یہ اس رجحان کا تسلسل ہے کہ جس میں جب بھی غیر منتخب اشرافیہ کے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا، عوام کی رائے کو دبایاگیا‘۔انہوں نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف بھی اسی سلسلے کا شکار بنے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ رجحان اشرافیہ کے مسلسل کنٹرول کا مظہر ہے. جس میں رہنماؤں کو پہلے پروان چڑھایا جاتا ہے اور پھر انہیں برباد کر دیا جاتا ہے، جب وہ عوامی مینڈیٹ کے بل پر توانا ہو جاتے ہیں، اور مستحکم طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو منظم طریقے سے تحلیل کر دیا جاتا ہے.عوام کی رائے کو بار بار دبایا گیا تاکہ ریاست پر اشرافیہ کا قبضہ قائم رہے، یہ ایک ایسی خیانت اور تباہ کاری ہے جو آئینی جمہوریت کے قلب کو نشانہ بناتی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی اسی دباؤ کے تسلسل کا نشانہ بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’سیاسی اختلاف کو جرم بنادیا گیا ہے، خواتین سمیت جو لوگ جھکنے سے انکار کرتے ہیں، انہیں غیر انسانی حالات میں گزارا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے. اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ ان سے انصاف چھینا جا رہا ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’حقیقت ہم سب جانتے ہیں.لیکن اسے صرف عدالت کے چیمبرز اور چائے کے کمرے میں سرگوشی کی جاتی ہے.اس ادارے کی آزادی چاہے یہ ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے ہو یا براہ راست شرکت کے ذریعے، اکثر اندرونی طور پر نقصان اٹھاتی رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم خود کو بنیادی حقوق کے محافظ قرار دیتے ہیں. لیکن ہم خاموش رہے جب پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس نے ہمیں بتایا کہ جبری گمشدگی کا رجحان ان کے دروازے تک پہنچ گیا ہے، ہم نے دوسرے چیف جسٹس کی بات بھی نظر انداز کی، جنہوں نے مخصوص نشستوں کے کیس کے تناظر میں اس عدالت کے 12 ججوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ مارشل لا کے نفاذ کو روکنے کے ذمہ دار ہیں اور وہ آئیں گے اور ہمیں گھر بھیج دیں گے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں انتخابی نتائج میں مداخلت کی گئی. عوام کی رائے دبائی گئی، اختلاف رائے رکھنے والی آوازیں خاموش کر دی گئیں. ناپسندیدہ سیاسی وابستگیاں اور آرا جرم قرار دی گئیں، اور صحافیوں کو اغوا یا دھمکایا گیا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے مزید کہا کہ اس نازک موقع پر خود احتسابی کی ضرورت ’ناقابل انکار‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میں احترام کے ساتھ یہ تجویز دوں گا کہ ایک عدالتی کانفرنس بلائی جائے تاکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے تمام ججز کے ساتھ ایک کھلا اور شفاف ادارہ جاتی مکالمہ ہو، تاکہ عدلیہ کی آزادی کے خطرات پر غور کیا جا سکے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے آئینی کردار کو متاثر کر سکتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ادارے کی صورتحال، اس کی آزادی کو درپیش چیلنجز، اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر ایک صاف اور کھلی بحث ناگزیر ہو گئی ہے، عدلیہ ایک خطرناک موڑ پر ہے، اس لمحے میں سچ بولا جانا چاہیے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو عدلیہ کے ادارہ جاتی نقطہ نظر پر غور کرنا چاہیے جو تجویز کردہ عدالتی کانفرنس کے ذریعے سامنے آئے، اس سے پہلے کہ وہ ملک کے بنیادی قانون میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کرے۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خبروں کی رپورٹس کے مطابق نئی وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شریعت عدالر کی عمارت میں قائم کرنے کی تیاری جاری ہے۔انہوں نے پوچھا کہ ’وہ کون سا پوشیدہ عمل ہے جس کے ذریعے عدلیہ کے کچھ افراد کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کیا گیا ہے جو آئینی ترمیم کے ذریعے تجویز کی جا رہی ہیں؟ اور یہ کس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے غور کرنے سے پہلے ہی عدلیہ کی مجوزہ ساخت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے پیشگی انتظامی اقدامات کرنے کے اتنے مشتاق کیوں ہیں؟‘۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی سب سے بڑی وفاداری اپنے تحفظ یا طاقت کی اطاعت میں نہیں بلکہ عوام اور آئین کے ساتھ وفاداری میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ عدالت اور عدلیہ بطور ادارہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہیں، اور عدلیہ کی آزادی کے منظم زوال کے سامنے خاموش رہنا دراصل اس میں شمولیت کے مترادف ہوگا، ہمارا حلف ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم سچ بولیں، سچائی کا علم بلند رکھیں اور آئین کی حفاظت کریں، چاہے ایسا کرنا مشکل ہی کیوں نہ ہو‘۔جسٹس اطہر من اللہ کا خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل جسٹس منصور علی شاہ نے متعدد وکلا اور سابق ججوں کے ساتھ مل کر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے عدلیہ کی آزادی کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔سپریم کورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے 6 صفحات پر مشتمل خط میں مجوزہ آئینی ترمیم کو عدلیہ کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی چال قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پر زور دیا تھا کہ وہ انتظامیہ کا سامنا کریں اور ایک اصول طے کریں کہ عدلیہ کو متاثر کرنے والی کوئی بھی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے پیشگی مشاورت کے بغیر منظور نہ کی جائے۔انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’آپ محض عدلیہ کے منتظم نہیں بلکہ اس کے محافظ ہیں‘، اور ساتھ ہی تجویز دی کہ ایک فل کورٹ اجلاس یا بہتر طور پر تمام آئینی عدالتوں کے ججوں پر مشتمل مشترکہ اجلاس، جن میں وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے جج بھی شامل ہوں، بلایا جائے تاکہ عدلیہ کا مشترکہ مؤقف واضح کیا جا سکے۔جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا تھا کہ موجودہ وقت قیادت، شفافیت اور ادارہ جاتی عزم کا متقاضی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں ایسی مشاورت شروع نہ کی گئی تو اسے خاموش منظوری اور اعلیٰ منصب میں رکھے گئے اعتماد سے دستبرداری کے طور پر دیکھا جائے گا۔اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی توجیہ پر بھی سوال اٹھایا کہ یہ عدالت آئین میں کس قسم کا خلا پُر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کسی حقیقی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے، اس کے جج کسی آئینی طریقہ کار کے بغیر مقرر کیے جائیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں ’آئینی بینچ‘ تشکیل دیا گیا تھا، اس طرح کا نظام فیصلہ کن اختیار انتظامیہ کو دے گا اور عدالتی عمل میں مداخلت کی راہ ہموار کرے گا، انہوں نے کہا کہ ایسی عدالت وقتی سیاسی مفادات کی خدمت کر سکتی ہے، لیکن یہ ریاست کو مستقل نقصان پہنچائے گی۔علاوہ ازیں سابق ججوں اور ممتاز وکلا نے بھی چیف جسٹس آفریدی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر 27ویں آئینی ترمیم پر غور کے لیے فل کورٹ اجلاس بلانے کی اپیل کی، یہ خط سینئر وکیل فیصل صدیقی نے تحریر کیا، جس کی توثیق سپریم کورٹ کے سینئر جج (ر) جسٹس مشیر عالم،سندھ ہائی کورٹ کے جج (ر) جسٹس ندیم اختر اور دیگر 9 ممتازجسٹس اطہر من اللہ کا خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل جسٹس منصور علی شاہ نے متعدد وکلا اور سابق ججوں کے ساتھ مل کر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے عدلیہ کی آزادی کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔سپریم کورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے 6 صفحات پر مشتمل خط میں مجوزہ آئینی ترمیم کو عدلیہ کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی چال قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پر زور دیا تھا کہ وہ انتظامیہ کا سامنا کریں اور ایک اصول طے کریں کہ عدلیہ کو متاثر کرنے والی کوئی بھی ترمیم اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے پیشگی مشاورت کے بغیر منظور نہ کی جائے۔انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’آپ محض عدلیہ کے منتظم نہیں بلکہ اس کے محافظ ہیں‘، اور ساتھ ہی تجویز دی کہ ایک فل کورٹ اجلاس یا بہتر طور پر تمام آئینی عدالتوں کے ججوں پر مشتمل مشترکہ اجلاس، جن میں وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے جج بھی شامل ہوں، بلایا جائے تاکہ عدلیہ کا مشترکہ مؤقف واضح کیا جا سکے۔جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا تھا کہ موجودہ وقت قیادت، شفافیت اور ادارہ جاتی عزم کا متقاضی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں ایسی مشاورت شروع نہ کی گئی تو اسے خاموش منظوری اور اعلیٰ منصب میں رکھے گئے اعتماد سے دستبرداری کے طور پر دیکھا جائے گا۔اپنے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی توجیہ پر بھی سوال اٹھایا کہ یہ عدالت آئین میں کس قسم کا خلا پُر کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کسی حقیقی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے.اس کے جج کسی آئینی طریقہ کار کے بغیر مقرر کیے جائیں گے. بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں ’آئینی بینچ‘ تشکیل دیا گیا تھا، اس طرح کا نظام فیصلہ کن اختیار انتظامیہ کو دے گا اور عدالتی عمل میں مداخلت کی راہ ہموار کرے گا، انہوں نے کہا کہ ایسی عدالت وقتی سیاسی مفادات کی خدمت کر سکتی ہے.لیکن یہ ریاست کو مستقل نقصان پہنچائے گی۔

علاوہ ازیں سابق ججوں اور ممتاز وکلا نے بھی چیف جسٹس آفریدی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر 27ویں آئینی ترمیم پر غور کے لیے فل کورٹ اجلاس بلانے کی اپیل کی، یہ خط سینئر وکیل فیصل صدیقی نے تحریر کیا، جس کی توثیق سپریم کورٹ کے سینئر جج (ر) جسٹس مشیر عالم،سندھ ہائی کورٹ کے جج (ر) جسٹس ندیم اختر اور دیگر 9 ممتاز وکلا نے کی۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مجوزہ وفاقی آئینی عدالت جسٹس منصور علی شاہ نے انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے جسٹس اطہر من اللہ اطہر من اللہ نے زور دیا تھا کہ چیف جسٹس یحیی کہ سپریم کورٹ فل کورٹ اجلاس عوام کی رائے بنیادی حقوق ادارہ جاتی اشرافیہ کے کی اپیل کی ہائی کورٹ کے طور پر عدلیہ کے کے ذریعے عدلیہ کو کہ عدلیہ عدالت کے کے محافظ عوام کے کے ججوں کرنے کی جاتا ہے کے ساتھ کے بغیر آئین کے کیا گیا گیا ہے کیا جا کے لیے کی گئی

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی