ٹرمپ انتظامیہ نے شکاگو کو ’جنگی علاقہ‘ قرار فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
شکاگو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے شکاگو کو ’جنگی علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے وہاں فوجی دستے تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کی جرائم اور امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی کو ڈیموکریٹس نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
شکاگو میں بھی مقامی ڈیموکریٹک حکام نے ٹرمپ کے اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسی دوران ایک جج نے ایک اور ڈیموکریٹک شہر پورٹ لینڈ میں فوج بھیجنے کے وائٹ ہاؤس کے حکم کو معطل کر دیا ہے۔
اس نئے تنازع کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے ہفتے کی رات شکاگو میں نیشنل گارڈ کے 300 اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دی۔
امریکا کی سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے حکومت کے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’شکاگو دراصل ایک جنگی علاقہ بن چکا ہے‘۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل دارالحکومت واشنگٹن میں بھی نیشنل گارڈز تعینات کرچکے ہیں۔
امریکا میں ہونے والے ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 42 فیصد شہری امریکی شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے حق میں ہیں جبکہ 58 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ ’اندرونی جنگ‘ کے لیے فوج کا استعمال کر سکتے ہیں، انہوں نے آج ایک غلط دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’پورٹ لینڈ جل کر راکھ ہو رہا ہے، ملک بھر میں بغاوت پھیل چکی ہے‘۔
ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے بھی امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دستے حقیقی معنوں میں ایک جنگی زون سے نمٹ رہے ہیں‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔