عمران خان کا ایکس اکائونٹ بند کرنے کیلیے وفاقی حکومت متحرک
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-13
اسلا م آباد(صباح نیوز) وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سوشل میڈیا اکائونٹ کے حوالے سے ایکس انتظامیہ سے باضابطہ رابطے شروع کر دیے ہیں، جب کہ معاملے پر تفتیش بھی جاری ہے۔وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام دوسرا رخ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ایکس اکائونٹ کے حوالے سے قانونی طریقہ کار پر عمل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اکائونٹ کہاں سے چل رہا ہے اور کون چلا رہا ہے، تحقیقات کے بعد نتائج جلد سامنے آئیں گے۔”نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پہلے ہی عمران خان کے ایکس اکائونٹ کے حوالے سے تفتیش شروع کر چکی ہے۔ ادارے نے بانی پی ٹی آئی کو 21 نکاتی سوال نامہ فراہم کیا ہے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ جیل میں موجود ہونے کے باوجود ان کا اکائونٹ فعال کیسے ہے اور کیا ذاتی اکانٹ سے کی جانے والی پوسٹس وہ تسلیم کرتے ہیں؟ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم دو بار اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر چکی ہے، لیکن انہوں نے تعاون نہیں کیا۔ دوسری ملاقات میں ان کا رویہ تلخ رہا، جس کے بعد سوال نامہ تحریری طور پر ان کے حوالے کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے حوالے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔