وفاقی حکومت کا شوگرسیکٹرکو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251117-08-1
اسلام آ باد ( مانیٹر نگ ڈ یسک )وفاقی حکومت نے شوگرسیکٹرکو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنیکا فیصلہ کرلیا۔ ملک کے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی سفارشات تیارکرلی گئیں۔ وفاقی وزیراویس لغاری کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی نے سفارشات تیارکیں اور کمیٹی کی سفارشات ایک دو دن میں وزیراعظم شہبازشریف کوپیش کی جائیں گی۔وفاقی وزیرغذائی تحفظ رانا تنویر نے ڈی ریگولیشن کی سفارشات کی تصدیق کی اور کہا کہ شوگرسیکٹر کی اینڈ ٹو اینڈ ڈی ریگولیشن کی جائیگی، حکومت چاہتی ہے چینی کی قیمتوں کا تعین امپورٹ ایکسپورٹ مارکیٹ فورسزکریں۔راناتنویر کا کہنا تھاکہ کچھ شوگرملز نے کرشنگ شروع کردی، 36 سے زائد نے بوائلران کردیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرشنگ دسمبرکے پہلے ہفتے تک جاتی ہے تب بھی اسٹاک موجود ہے، درآمدی چینی کی فروخت کیلئے ایف بی آر کا پورٹل بند نہیں کیا، درآمدی چینی آدھی فروخت ہوئی،آدھی ابھی موجود ہے۔ان کا کہنا تھاکہ درآمدی چینی ویسے ہی فروخت ہورہی ہے جیسے عام چینی فروخت ہوتی ہے، مارکیٹ فورسزفیصلہ کریں گی کہ چینی درآمد کرنی ہے یا برآمد کرنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔