جڑواں شہروں راولپنڈی ،اسلام آباد میں چینی کا بحران بے قابو
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں چینی کا بحران جاری ہے اور چینی کی قیمت کنٹرول نہ ہوسکی اور فی کلو 210 روپے فروخت ہو رہی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ چینی کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں مکمل بے بس دکھائی دے رہی ہے جہاں سرکاری ریٹ 179 روپے کلو ہے لیکن چینی شہر بھر میں کسی بھی دکان اسٹاک پر دستیاب نہیں، اب مارکیٹ میں بیرون ممالک سے منگوائی گئی باریک پاؤڈر نما چینی بھی متعارف کرا دی گئی ہے جس کا خریدار کوئی نہیں ہے۔
کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ہمیں 173 روپے کلو چینی سپلائی کریں ہم 179 روپے کلو فروخت کے لیے تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ ہمیں یہ بتا دے کہ تھوک میں 173 روپے کلو چینی کون سا ہول سیل ڈیلر فروخت کرتا ہے۔
کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن نے مہنگی چینی خرید کر سستے داموں فروخت سے معذرت کرتے کہا ہے کہ شوگر ملز ضلعی انتظامیہ گاڑیوں اور اتوار بازاروں میں سستی چینی کے اسٹال لگائے، ہمیں تھوک میں چینی 187 روپے کلو ملتی ہے اوار 12 روپے کلو ہمارا خرچہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ڈیزل مہنگا ہونے سے لوڈنگ ان لوڈنگ ٹرانسپورٹیشن مزید مہنگی ہوگئی ہے، پیر (17) نومبر سے چینی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔