قومی اسمبلی، پی ٹی آئی کا ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
نواز شریفخیال کر رہے تھے کہ ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا، بیرسٹر گوہر کاصحافی کو جواب
پارلیمان میں ان کیلئے کسی نے ریڈ کارپٹ نہیں بچھایا،چیئرمین پی ٹی آئی کی صحافیوں سے گفتگو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیٔرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اعلان کیا ہوا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، اسمبلی میں تقریر کرنے کے بعد واک آؤٹ کریں گے۔صحافی نے سوال کیا کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پی ٹی آئی کیسے ویل کم کریں گے؟ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف آئیں یا نہ آئیں وہ اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلقہ ہو چکے ہیں، وہ خیال کر رہے تھے کہ انہیں لا کر ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا، پارلیمان میں ان کے لئے کسی نے بھی ریڈ کارپٹ نہیں بچھایا۔ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے خواجہ محمد آصف کو مخاطب کر کے استفسار کیا کہ کیا راجہ پرویز اشرف کے خلاف پٹیشن لے کر آپ افتخار چودھری کے پاس نہیں گئے؟ میاں صاحب خود وکیل بن کے میموگیٹ کمیشن بنوانے کیلئے نہیں گئے تھے؟انہوں نے کہا کہ جو ججز چلے گئے، چاہے وہ اچھے تھے یا برے، ان کے بارے میں غلط الفاظ نہ کہیں۔رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اسد قیصر نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم نے آئین و قانون کا جنازہ نکال دیا، ترمیم کے خلاف بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی دینے کیلئے امن جرگہ بلایا ہے، ہم مزید بدامنی اور دھماکے برداشت نہیں کر سکتے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کو صبرو اسقامت اور سفارتی سطح پر حل کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی ریڈ کارپٹ ترمیم کے
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔