چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ : فوٹو فیس بک/ قومی اسمبلی
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے 27ویں ترمیم کے خدوخال سامنے رکھ دیے تھے، چیف جسٹس پاکستان سے متعلق ترامیم میں کچھ ابہام تھا، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ سے جو جج سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان کہلائے گا۔
وزیر قانون نے کہا کہ اچکزئی کی باتوں کا جواب نہیں دوں گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، پاکستانی قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی ایک بار پھر شکست دینگے
اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 27ویں ترمیم پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ، آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابرکی نمائندگی ہونا بڑی کامیابی ہے ، ہم نے دیکھا کیسے عدالتوں نے سوموٹو لے کر وزیراعظم اور وزرا کی توہین کی، اب کوئی سوموٹو نہیں ہوگا ، کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کردی، جس کے بعد 27ویں آئینی ترامیم پر شق وار ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔
اپوزیشن ارکان کے شور شرابے میں قومی اسمبلی سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا 27 ویں ترمیم میں بھی اپوزیشن کا ان پٹ آتا تو آئین زیادہ مضبوط ہوتا ، اپوزیشن کا کام صرف اپنے لیڈر کے لیے رونا دھونا نہیں ، اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت کو جوابدہ بنائے ، کسی قانون سازی کی مضبوطی اکثریت سے نہیں اتفاق رائے سے ظاہر ہوتی ہے۔
پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ مودی کو شکست دینے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے ، ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس پاکستان اعظم نذیر تارڑ بلاول بھٹو نے کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز