جگوار لینڈ روور: برطانیہ کی منتحب فیکٹریوں میں پیداوار دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کے سب سے بڑے کار ساز ادارے جگوار لینڈ روور نے تقریباً 6 ہفتے کی بندش کے بعد کچھ فیکٹریوں میں پیداوار دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا، یہ بندش ایک بڑے سائبر حملے کے بعد کی گئی تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جگوار لینڈ روور نے چھوٹے پارٹس سپلائرز کی مدد کے لیے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پیداوار کی بحالی کے مرحلے کے دوران کچھ کمپنیوں کو پیشگی ادائیگی کریں گے تاکہ وہ اپنے پارٹس کی سپلائی بحال رکھ سکیں، ان کا کاروبار ہفتوں سے بند ہونے کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔
یہ لگژری کار ساز ادارہ برطانیہ میں تین فیکٹریاں چلاتا ہے، جو بھارتی کمپنی ٹاٹا موٹرز کی ملکیت ہے، مجموعی طور پر روزانہ تقریباً ایک ہزار گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں، ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا تھا کہ طویل بندش ملک کی مینوفیکچرنگ پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
جگوار لینڈ روور برطانیہ میں اس سال کے دوران ہیکرز کے نشانے پر آنے والی تازہ ترین بڑی کمپنی ہے، اس سے قبل ملک کے ایک بڑے ریٹیلر مارکس اینڈ اسپینسر کو تقریباً 30 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 40 کروڑ ڈالر) کا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا تھا، جب ایک سائبر حملے کے بعد اسے اپنی آن لائن دکان دو ماہ کے لیے بند کرنی پڑی۔
یہ واقعات عالمی کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں، جو جدید اور بار بار ہونے والے سائبر حملوں سے دوچار ہیں، واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایک رینسم ویئر حملے نے یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں پر چیک اِن سروسز کو متاثر کر دیا تھا، جس کے باعث ہزاروں مسافر پھنس گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بندش کے دوران جگوار لینڈ روور کو ہر ہفتے تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان ہو رہا تھا، برطانوی حکومت نے ستمبر کے آخر میں کمپنی کو اپنے سپلائرز کی مدد کے لیے 1.
وزیرِ صنعت پیٹر کائل نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی ترجیح جگوار لینڈ روور کو اس واقعے سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا اور گاڑیوں کے سپلائی چین کی طویل مدتی صحت کو یقینی بنانا ہے، جو برطانیہ میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد ملازمتوں کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ کارکنوں اور سپلائرز کے لیے بہت خوش آئند خبر ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ اب بھی دباؤ میں ہیں۔
جگوار لینڈ روور نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ 30 ستمبر تک ختم ہونے والے تین مہینوں میں کمپنی کی تھوک فروخت میں 24.2 فیصد اور ریٹیل فروخت میں 17.1 فیصد کمی آئی، جو پیداوار کی بندش، پرانی جگوار ماڈلز کی مرحلہ وار بندش اور امریکی ٹیرف کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
جگوار لینڈ روور کے سی ای او ایڈرین مارڈیل نے کہا کہ ’یہ کمپنی کے لیے ایک چیلنجنگ سہ ماہی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔