ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کا معاشی سیاسی لینڈ سکیپ بدل دے گی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پاکستان کی جی ڈی پی 400 ارب ڈالر کراس کرتے ہوئے 2025 میں 411 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے ہیں۔ 411 ارب ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ پاکستانی معیشت رینکنگ میں 43 ویں نمبر پر ہے۔ یہ رینکنگ آئی ایم ایف کے ایسٹیمیٹس کے مطابق ہے جس نے پاکستان کو 250 سے 500 ارب ڈالر جی ڈی پی رکھنے والے ملکوں کے بریکٹ میں رکھا ہوا ہے۔
پاکستان نے 2028 تک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مکمل کرنا ہے۔ ادائیگیوں، ٹیکس اور گورننس کا نظام ڈیجیٹل کیا جانا ہے۔ بنکنگ سسٹم اور ادائیگیوں کا سسٹم کافی حد تک ڈیجیٹل کر لیا گیا ہے۔ جون 2026 تک تمام سرکاری ادائیگیوں کو بھی ڈیجیٹل کر دیا جائے گا۔ گورنمنٹ ٹو پرسن اور پرسن ٹو گورنمنٹ دوںوں ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو جائیں گی۔
پاکستان کی غیر دستاویزی معیشت کا سائز 40 سے 50 فیصد ہے۔ دل خوش کرنے کو 50 فیصد کا حساب کرتے ہیں۔ 50 فیصد غیر دستاویزی معیشت اگر دستاویزی ہو جاتی ہے تو جی ڈی پی کا سائز 616 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ ہماری رینکنگ بیٹھے بٹھائے تبدیل ہو جائے گی اور پاکستان 500 سے 750 ارب ڈالر والے بریکٹ میں آ جائے گا جس میں ناروے جیسے مضبوط معیشت کے ملک شمار ہوتے ہیں۔
دل کو اتنا بھی خوش نہ کریں عالمی مالیاتی اداروں کا اندازہ ہے کہ 2035 تک 150 سے 180 ارب ڈالر تک پاکستانی معیشت میں شامل ہو سکتے ہیں۔یہ حساب 2028 میں معیشت کے مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جانے کے بعد سے لگایا گیا ہے۔ یعنی 7 سال میں ہر سال 20 ارب ڈالر کے لگ بھگ اضافہ، اسیں مر نہ جائیے اعتبار کر کے۔ پھر بھی اللہ کرے ایسا ہی ہو اور اس سے بھی پہلے ہو۔
آسان بھاشا میں اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے سارے اعدادو شمار ہی بدلنے جا رہے ہیں۔ نہ گروتھ ریٹ یہ رہے گا، نہ جی ڈی پی سائز یہ رہنا ہے۔ نہ قرض اور جی ڈی پی کا تناسب یہ رہنا ہے۔ یہ سارے انڈیکیٹرز بہت بہتر ہو جانے ہیں۔ معیشت کی اصل پکچر سامنے آئے گی جو موجودہ حالت سے بہت مختلف اور بہتر ہو گی۔ اس سے اگر کسی کو یہ وہم ہو رہا ہے کہ خدانخواستہ عام آدمی کی حالت میں کوئی بہتری آنی ہے تو جواب ہے کہ نہیں۔ معیشت کا جو سانس اٹکا ہوا تھا وہ ضرور بحال ہو جائے گا۔
اب تک ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے پرسن ٹو پرسن ادائیگیوں کا نظام، پرسن ٹو مرچنٹ ادائیگی، گورنمنٹ ٹو پرسن اور پرسن ٹو گورنمنٹ ادائیگی کے سسٹم ڈیجیٹل ہوتے جا رہے ہیں۔ کیش کے ذریعے ادائیگیوں میں بڑی کمی آئی ہے۔ اس ڈیجیٹل اکانومی کی طرف شفٹ کو عام آدمی باقاعدہ محسوس کر رہا ہے۔ بڑی ادائیگیوں کے لیے وہ بنکوں کو ثبوت فراہم کرتے باقاعدہ رُلتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب پرانے سے نئے ڈیجیٹل سسٹم کی جانب منتقل ہوتے حکومتی ڈیٹا بھی اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ تجارتی ریکارڈ میں 11 ارب ڈالر کا فرق اس کی ایک مثال ہے۔
ڈیجیٹل اکانومی کی طرف جاتے ابھی بہت لطیفے ہوں گے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بنانا اور بہتر کرنا پڑے گا۔ ابھی تک عام صارف کا زیادہ انحصار موبائل نیٹ پر ہے جبکہ فکس نیٹ اور فائبر آپٹک کا نیٹ ورک زیر تعمیر ہے۔ ادائیگیاں ڈیجیٹل ہونے سے باڈر سے ہونے والی غیر دستاویزی معیشت بھی نیٹ میں آ رہی ہے۔ راڈار میں آنے کے بعد اس پر ٹیکس بھی لگے گا اور اس کو ریگولرائز بھی کیا جا سکے گا۔
آپ تصور کریں کہ آپ اپنا بجٹ 10ہزار کے حساب سے بنا رہے ہیں اور آپ کو پتہ لگے کہ آپ کے پاس تو 15ہزار ہیں۔ ایک لاکھ نہیں ڈیڑھ لاکھ ہیں۔ لوگوں کو ابھی ڈیجیٹل اکانومی کی سمجھ نہیں آئی۔ سیٹھ لوگ سمجھ گئے ہیں اور اسٹاک مارکیٹ دل کھول کر سٹہ لگا کر اپنا جی خوش کر رہے ہیں۔
اس بدلتی صورتحال کا اثر ہماری سیاست پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ پی پی اور مسلم لیگ نون میں لڑائی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سیٹھ سمجھ جائے اور پی پی والے نہ سمجھیں۔
2024 میں الیکشن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارتیں لینے سے گریز کیا۔ آئینی عہدوں پر اکتفا کیا۔ پی پی کے اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ سخت معاشی حالات مہنگائی کے بعد عوامی ردعمل یقینی تھا جس سے پی پی بچنا چاہ رہی تھی۔ پالیسی دیسی سائنس کے عین مطابق تھی کہ کھانے پینے کو بھاگ بھری اور چھتر کھانے کو جمعہ۔ یہاں جمعہ سے مراد پٹواری کر لیں۔
اب پیپلز پارٹی کا اندازہ ہے کہ اس نے بس مس کر دی ہے۔ آنے والے سال ڈیڑھ میں معاشی اعدادوشمار تبدیل ہونے والے ہیں۔ سرمایہ کاری کی ڈیل میچور ہونے لگیں گی، معاشی صورتحال میں بہتری دکھائی دینے لگے گی۔ پیپلز پارٹی غیر متعلق ہوتی جائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ کا مزاج ہی نہیں ہے کہ وہ کریڈٹ میں کسی کو شریک کرے۔ اس لیے آج کل جیالوں کا پٹواریوں کے ساتھ پٹ سیاپا چل رہا ہے۔
پی ٹی آئی والوں کا اس سب میں کچھ لینا دینا دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ ڈیجیٹلائزیشن کا عمل 2018 میں شروع ہوا تھا۔ کپتان کے چاہنے والے دل چھوٹا بڑا نہ کریں، سوہنا اندر بیٹھا بڑی گیم لگا رہا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
اردو کالم وسی بابا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اردو کالم ڈیجیٹل اکانومی ڈیجیٹل ہو معیشت کے ارب ڈالر جی ڈی پی جائے گا پرسن ٹو رہے ہیں کے بعد اور اس رہا ہے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔