’اب ترقی کا سفر ہرگز نہیں رکے گا‘ وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستانی معیشت سے متعلق بلوم برگ کی مثبت رپورٹ کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی معیشت سے متعلق بلوم برگ کی حالیہ مثبت رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ملکی معیشت میں عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔ اب ترقی کا سفر ہرگز نہیں رکے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کریڈٹ ڈیفالٹ سواپ (CDS) میں 2,200 بیسس پوائنٹس کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو ڈیفالٹ کے خدشات میں خاطر خواہ کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے ٹرمپ دور میں بازی پلٹ دی، بھارت پیچھے رہ گیا: بلوم برگ
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عالمی درجہ بندی میں اس وقت ترکیہ کے بعد پاکستان دوسرے نمبر پر ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند پیشرفت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اختتام پر ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا، مگر آج کی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری: بلوم برگ رپورٹ پر وزیراعظم کا اظہارِ اطمینان
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی انتھک کوششوں اور ملکی و غیر ملکی کاروباری برادری کے تعاون سے ترقی کا وعدہ پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ اب یہ ترقی کا سفر ہرگز نہیں رکے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوم برگ خیرمقدم وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوم برگ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نے کہا کہ کی معیشت بلوم برگ ترقی کا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔