دنیا کا سب سے زیادہ شور والا شہر ڈھاکا، اسلام آباد تیسرے نمبر پر
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے سب سے زیادہ شور شرابے والے خطے کے طور پر جنوبی ایشیا نے نئی حدیں چھو لی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیپ (UNEP) کی ’’فرنٹیئر رپورٹ 2022‘‘ کے مطابق بنگلا دیش کا دارالحکومت ڈھاکا دنیا کا شور ترین شہر قرار پایا ہے، جہاں شور کی سطح 119 ڈیسی بل تک ریکارڈ کی گئی ، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
رپورٹ میں دوسرے نمبر پر بھارت کا مرادآباد ہے، جہاں 114 ڈیسی بل شور ناپا گیا جب کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد 105 ڈیسی بل کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
یہ وہ سطح ہے جس پر مستقل رہنے سے انسان کی سماعت، دل، اور دماغ پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں شور کی سب سے بڑی وجوہات بے ہنگم ٹریفک، حد سے زیادہ ہارن بجانا، تعمیراتی مشینری، صنعتی سرگرمیاں، اور ناقص شہری منصوبہ بندی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شور کی آلودگی سے متعلق قوانین پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مسلسل بلند آوازوں کے زیرِ اثر رہنے سے لوگوں کو سماعت میں کمی، بلڈ پریشر میں اضافہ، نیند میں خلل، دل کے امراض اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شور کی آلودگی محض شہری مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا عالمی صحت کا بحران بن چکا ہے۔
یونیپ کی رپورٹ نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا کے بڑے شہروں میں شور کی سطح دیگر خطوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جو شہری زندگی کے معیار کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شور کی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔