وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزارت قانون نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز ہوں گے، آئینی عدالت میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق ہوں گے۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا جج ہوں گے، بلوچستان سے جسٹس روزی خان آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی نے صحت کے مسائل کے سبب معذرت کی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور ہائی کورٹ سے جسٹس ارشد حسین شاہ آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
واضح رہے کہ جسٹس امین الدین نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی اس تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت کے آئینی عدالت کے جج ہوں گے
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔