آزاد کشمیر کے نئے نامزد وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے، اور نوجوان رہنما راجا فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فیصل ممتاز راٹھور کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک بااثر اور تاریخی سیاسی خاندان سے ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے فرزند ہیں، جبکہ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔
راٹھور خاندان کو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے بانی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فیصل راٹھور نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ان کے والد ممتاز حسین راٹھور نے 1975 کے انتخابات کے بعد سینیئر وزیر، 1990 میں وزیراعظم، 1991 میں قائدِ حزبِ اختلاف اور 1996 میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ممتاز حسین راٹھور کی وفات کے بعد 1999 میں ان کے بڑے صاحبزادے مسعود ممتاز راٹھور بقیہ مدت کے لیے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔
فیصل راٹھور نے 2006 میں پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے حلقہ حویلی کہوٹہ سے الیکشن میں حصہ لیا۔
بعد ازاں 2011 کے انتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیر اکلاس اور وزیر برقیات کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
فیصل راٹھور نے 2016 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اور ایک معاہدے کے تحت پارٹی رہنما خواجہ طارق سعید کو میدان میں اتارا تاہم انہیں شکست ہوگئی۔
اس وقت راجا فیصل ممتاز راٹھور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہیں۔
2021 کے انتخابات میں وہ دوسری بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ایوان میں موثر اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
2023 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد انہوں نے چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیر لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کی سربراہی بھی کی۔
فیصل ممتاز راٹھور اپنی بردباری، نرم مزاجی اور بے داغ شہرت کے باعث سیاسی و عسکری حلقوں، عوامی ایکشن کمیٹی اور عوام میں یکساں مقبول ہیں۔
پارٹی قیادت انہیں بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نہایت قابلِ اعتماد ساتھی سمجھتی ہے، جبکہ وہ پارٹی کے نظریاتی اور متوسط طبقے کے نمائندہ رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قانون ساز اسمبلی کے آزاد کشمیر کے پیپلز پارٹی کے انتخابات راٹھور نے پارٹی کے کے بعد
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔