وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف جو اس وقت ملائیشیاء کے سرکاری دورے پر ہیں، نے ملائیشیاء کے وزیر اعظم عزت مآب داتو سری انور ابراہیم سے آج پتراجایا میں پردانا پوترا میں ملاقات کی۔ پردانا پترا آمد پر، وزیر اعظم کا استقبال ایک سرکاری استقبالیہ تقریب میں کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر ملاقات میں اپنے اپنے وفد کی قیادت کی ۔ وزیراعظم نے دورہ کے دوران ان کے اور ان کے وفد کے ارکان کے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر ملائیشیاء کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اپنی انتہائی تعمیری اور مفید ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے اکتوبر 2024 میں ملائیشیاء کے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے بعد، دونوں طرف سے دو طرفہ تعاون میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلہء خیال کیا، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان ملائیشیاء دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی تجدید کی اور اس حوالے سے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، حلال انڈسٹری، آٹوموٹیو، کنیکٹیویٹی، گرین انرجی، الیکٹریکل اور الیکٹرانک مینوفیکچرنگ، سیاحت، اعلیٰ تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں سمیت تعاون کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے پاکستان سے ملائیشیاء کو حلال گوشت کی برآمدات کا کوٹہ 200 ملین امریکی ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان سے ملائیشیاء کو چاول کی خاطر خواہ برآمدات ہو رہی ہیں جو کہ مقرر کردہ کوٹہ سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کی اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم نے فلسطین کے تنازعے حل کے لئے اور امن کے قیام کے لئے پاکستان کے تعمیری کردار بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ (UN) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور تنازعہء جموں و کشمیر کی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی مطابق حل کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان-آسیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر مزید غور کیا۔ ملائیشیاء کے وزیر اعظم کو آسیان کی سربراہی سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کا آسیان کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بننے کے حوالے سے پاکستان کے لئے ملائیشیاء کی حمایت کی توثیق پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم بین الاقوامی امور پر ایک دوسرے کو اپنے نقطہء نظر سے آگاہ رکھنے کے لیے کیے گئے اہم فیصلوں پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلوں کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان سفارتکاروں کی تربیت، سیاحت ، حلال سرٹیفیکیشن ، اعلیٰ تعلیم ، کرپشن اور بدعنوانی کی روک تھام اور خاتمے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔ اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے وزیراعظم انور ابراہیم کی کتاب "اسکرپٹ" ، جو کہ لیڈر شپ کے حوالے سے ان کے خیالات کا اظہار ہیں ، کی رونمائی بھی کی۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ _
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اعظم محمد شہباز شریف ملائیشیاء کے وزیر انور ابراہیم پاکستان کے نے پاکستان کے درمیان حوالے سے انہوں نے کے لئے پر بھی
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔