Jasarat News:
2026-06-03@05:13:42 GMT

مالمو فوڈز اینڈ بیکرز میں لیبر قوانین کے نفاذ کا مطالبہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مالمو فوڈز میں کم از کم تنخواہ کے حکم نامہ کے مطابق ورکرز کی کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ادا کی جائے، بر طرف مزدور رہنما محمد ارشد، جاوید اقبال اور دیگر 8 سرگرم کارکنوں کو ڈیوٹی پر بحال کیا جائے فیکٹری ایکٹ اور رولز کے مطابق فیکٹری کینٹین کا معیار اور ماحول قائم کیا جائے، ٹریڈ یونین کی آزادی اور لیبر قوانین کا نفاذ کیا جائے۔ لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب مالمو انتظامیہ کی قانون شکنیوں پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی محکمانہ ذمہ داریاں سرانجام دے۔ اور لیبر لاز کی وائی لیشن کو روکنے میں موثر کردار ادا کرے۔ فیکٹری ورکرز کو فیکٹری کارڈ، تقرری نامے، سوشل سیکورٹی کارڈز اور پنشن کارڈ جاری کیے جائیں۔
یہ مطالبات مالمو فوڈز، بیکرز اینڈ سویٹس ایمپلائز یونین پنجاب رجسٹرڈ ملحقہ پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام مالمو کمپنی میں ٹریڈ یونین انتقامی کارروائیوں و مزدور رہنمائوں کی برطرفیوں کے خلاف، ٹریڈ یونین کی آزادی اور قوانین محنت کے اطلاق کے لیے گزشتہ دنوں مالمو فیکٹری گیٹ بالمقابل کامسیٹس یونیورسٹی ڈیفنس روڈ آف رائے ونڈ روڈ لاہور پر ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ میں کیے گئے جس میں کوکا کولا بیوریجز ورکرز یونین سی بی اے، پیپسی کولا امن ورکرز یونین سی بی اے، والز آئس کریم سی بی اے یونین، یونی لیور فوڈ پاکستان ورکرز یونین سی بی اے، ایم اینڈ پی سی بی اے یونین، ٹیکسٹائل پاور لومز اینڈ گارمنٹس ورکرز فیڈریشن،جے اینڈ پی کوٹس یونائیٹڈ ورکرز یونین سی بی اے، مزدور کسان پارٹی، ایم آر لیبارٹریز ورکرز یونین سی بی اے، لیبر قومی موومنٹ پاکستان، پی ایچ اے ورکرز یونین لاہور، پاکستان بھٹہ مزدور یونین، لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن لیبر کالونی، پنجاب رکشہ یونین اور دیگر مختلف یونینز اور تنظیموں کے نمائندگان شریک تھے۔
مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر محنت پنجاب فیصل ایوب کھوکھر اور چوہدری امجد علی جاویدچیئرمین لیبر اسٹینڈنگ کمیٹی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل کی کہ مالمو فوڈز اینڈ بیکرز کے محنت کش آپ کی خصوصی توجہ کے طلبگار ہیں کیونکہ یہ پچھلے 11ماہ سے لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹ کھٹا رہے ہیں لیکن محکمہ کے افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ فیکٹری انتظامیہ قوانین محنت کو کچھ سمجھتی ہی نہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا آپ اعلیٰ حکام ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی بنا کر اصل حقائق کو سامنے لا کر سینکڑوں ورکرز کو ان کے قانونی حق اور مراعات دلوائیں اور انہیں انجمن سازی کی آئینی اور قانونی آزادی کاحق دلایا جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں یہ پرامن احتجاجی تحریک پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن اور انٹر نیشنل سطح پر انٹر نیشنل یونین آف فوڈ کے زیر اہتمام چلائی جائے جبکہ یہ پرامن احتجاجی تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
مقررین نے واضح کیا کہ وہ ادارے کو چلانا چاہتے ہیں اور اس کے ترقی کے خواہاں ہیں۔ اس موقع پر نیاز خان، نصراللہ چوہان، محمد مشتاق بھٹی، محمد افضال،اکرام مصطفی،شبیر حسین، امیر عبداللہ نیازی، مزمل ورک، محمد شہباز، تنویر حسین چوھان، باجی فائزہ، کامریڈ عرفان علی، عزیز بھٹی، محمد سرور بابا اور دیگر نے خطاب کیا۔

 

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ورکرز یونین سی بی اے مالمو فوڈز

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی