مریم نواز سیاسی محاذ پر جس انداز سے کھیلتی نظر آرہی ہیں وہ دیکھ کر نواز شریف کی یاد آگئی، پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کےسیاسی تناؤپر سلمان غنی کا تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تجزیہ کار سلمان غنی نے ئے کہا ہے کہ مریم نواز اپنے صوبےکے مفادات اور ترجیحات کے حوالے سےبہت کلیئر ہیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ میں کسی سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ۔ مریم نواز سیاسی محاذ پر جس انداز سے کھیلتی نظر آرہی ہیں وہ دیکھ کر ہمیں نواز شریف کی یاد آگئی، نواز شریف بھی اسی انداز سے فیصلے کرتے تھے اور انہوں نے کبھی دفاعی انداز نہیں اپنا یا۔
نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے پروگرام 'تھنک ٹینک، میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان غنی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی ملاقات میں پیپلز پارٹی سے معاملات بہتر کرنے کاایجنڈہ نہیں تھا ، اس سے بڑے ایشوز موجودہیں، اس ملاقات میں دو تین اہم ایشوز تھےجس پر نواز شریف کو بریف کیا گیا ہے ، خاص طور پرغزہ امن عمل کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور اس حوالےسےدیگر سات مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط پر بات ہوئی۔ان کاکہنا تھا کہ کچھ دن پہلے بتایاتھاکہ ایک طرف پنجاب کے سیاسی محاذ پرہوائی فائرنگ ہو رہی ہے اور دوسری طرف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ذمہ داران آزاد کشمیر گئے اور وہاں سےکامیاب معاہدے کے بعد سرخرو ہو کر واپس آئے۔سلمان غنی نے کہا میں بحیثیت صحافی سمجھتا ہوں کہ مریم نواز نے جو کیفیت طاری کی ہے ، اس کا مسلم لیگ ن کو فائدہ ہوا ہے، ان کو موقع ملا ہے تو انہوں نے بھر پور انداز میں حکومتی کار کردگی دکھائی اور ان پر جو تنقید ہوئی ہے اس کے جواب میں کھل کر اظہار خیال کیا ہے، اس معاملے میں پیپلز پارٹی دفاعی محاذ پر گئی ہے۔تجزیہ کار نے مزید کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ اپوزیشن چڑھائی کرتی تھی اور حکومتیں دفاع کرتی تھیں۔اگر یہ کام وفاقی سطح پر ہو گا تو شہباز شریف مفاہمت پسند انسان ہیں اس لیے وہ پیپلز پارٹی کی بات بھی مانتے ہیں لیکن پنجاب کی سطح پرمریم نواز نے اس لیے بات نہیں مانی کیونکہ یہاں پر پیپلز پارٹی کا اس طرح اسٹیک نہیں ہے۔
بھارت پاکستان کے خلاف 2 طرفہ محاذ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے، تجزیہ کار فاران جعفری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مریم نواز نواز شریف
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔