علی امین گنڈاپور نے صوبائی وزراء عاقب اللّٰہ و فیصل ترکئی کے استعفے منظور کر لیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
فیصل ترکئی اور عاقب اللّٰہ—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبائی وزراء عاقب اللّٰہ اور فیصل ترکئی کے استعفے منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے عاقب اللّٰہ اور فیصل ترکئی سے استعفے مانگے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختون خوا کابینہ کے 2 وزراء فیصل ترکئی اور عاقب اللّٰہ نے اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے صوبائی وزراء عاقب اللّٰہ اور فیصل ترکئی نے استعفیٰ دے دیا۔
وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور دونوں وزراء کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور ان کی وزارتیں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔
وزیرِ اعلیٰ نے جب انہیں بتایا تو دونوں نے اپنے استعفے علی امین گنڈاپور کو ارسال کر دیے، جس کے بعد تحریکِ انصاف حکومت میں ایک مرتبہ پھر اختلافات اور گروپ بندی میں شدت آ گئی۔
صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے میں نے اپنے قائد عمران خان کے ویژن کے مطابق شفافیت، میرٹ اور کارکردگی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات رہی کہ مجھے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور ترقی کے عمل کا حصہ بنایا گیا تاہم میں پی ٹی آئی اور عمران خان کے ویژن کے ساتھ اپنی وابستگی جاری رکھوں گا۔
اسی طرح صوبائی وزیرِ آبپاشی عاقب اللّٰہ خان نے بھی اپنے استعفے میں اعتراف کیا کہ وزارت کے دوران میں نے عمران خان کے اعتماد پر پورا اترنے اور محکمۂ آبپاشی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور وزراء عاقب الل فیصل ترکئی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔