وسائل، خزانے اور پانی پر پہلے پنجاب کا حق ہے پھر کسی اور کا: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات کو غیر سنجیدہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے وسائل، خزانے اور پانی پر سب سے پہلے پنجاب کے عوام کا حق ہے۔ اس کے بعد کسی اور کا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما پنجاب کے سیلاب پر سیاست کر رہے ہیں۔ کیا یہ مشورہ ان کو مودی نے دیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور لسانی سیاست کو ہوا دینے کی کوشش پیپلز پارٹی خود کر رہی ہے، وہ بھی ایک منظم مہم کے تحت۔ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اگر آپ کو سوال و جواب کرنا ہے تو اسمبلی کا فورم موجود ہے۔ اگر خود حاضر نہیں ہو سکتے تو آپ کے ارکان تو وہاں موجود ہیں۔ مگر جب آپ میڈیا پر آ کر پنجاب کے سیلاب جیسے حساس مسئلے پر اپنی مردہ سیاست کو زندہ کریں گے تو جواب بھی میڈیا پر ہی دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں مریم نواز کی کامیابی اور عوامی خدمت سے تکلیف ہو رہی ہے، کیونکہ اب سندھ کے عوام بھی مریم نواز کو یاد کرتے ہیں۔ "مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ پنجاب کے عوام کے حق میں آواز بلند کرتی رہیں گی۔ سندھ میں گزشتہ دو دہائیوں سے ایک ہی خاندان کے قبضے میں ہے۔ وہاں عوام کی خدمت کے کون سے کارنامے سرانجام دئیے گئے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پنجاب کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔