خیبر پی کے ‘ 2 وزیر مستعفی دوبارہ سوچ لیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پشاور (بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) خیبر پی کے کابینہ کے 2 وزراء نے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ایم این اے و سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ جبکہ رکن قومی اسمبلی و سابق سینئر صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی کے بھائی فیصل خان ترکئی نے اپنی اپنی وزارتوں سے استعفے وزیراعلیٰ سردار علی امین گنڈا پور کو ارسال کردیئے ہیں۔ وزیر آبپاشی عاقب اللہ نے اپنے استعفیٰ میں کہا ہے کہ میں اپنے لیڈر عمران خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری صلاحیتوں پر اعتماد کرکے مجھے آبپاشی کے محکمے کا قلمدان سپرد کیا۔ بطور ورکر کام کرتا رہوں گا۔ وزیر تعلیم فیصل ترکئی نے وزیراعلیٰ کو ارسال کردہ استعفیٰ میں کہا کہ میں نے عمران خان کے ویژن کے مطابق محکمہ تعلیم میں شفافیت، اعلیٰ کارکردگی اور میرٹ کے نفاذ کیلئے اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے وقت میں پوری پوری کوشش کی۔ علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف جمہوری پارٹی ہے۔ اس میں بنیادی اختلافات نہیں۔ دونوں وزراء اپنے استعفوں پر دوبارہ سوچ لیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے گزارش کروں گا کہ استعفے قبول نہ کریں۔ گڈ گورننس کیلئے سب کو ساتھ کام کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔