اسلام آباد:

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق انسانی ترقی میں پنجاب سب سے آگے، بلوچستان و خیبرپختونخوا کے برعکس پنجاب میں انتہائی کمزور ضلع ایک بھی نہیں۔

رپورٹ میں اضلاع کو مالی وسائل کی براہ راست منتقلی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومتوں کا وسائل پر مضبوط کنٹرول آبادی کے ایک بڑے حصے کی پسماندگی بڑھا رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ ولنرایبلٹی انڈیکس فار پاکستان کا اجراء وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب اور وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کیا، جس کے مطابق ملک کے بیشتر کمزور ترین اضلاع بلوچستان، کم کمزور پنجاب میں ہیں۔رپورٹ میں7 ویں نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبوں کو جاری کھربوں کے اضافی مالی وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں کہ اضافی رقوم اپنے لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کے قرضوں میں لگ رہی ہے۔

رپورٹ چھ شعبوں ہاؤسنگ، ذرائع معاش، کمیونیکشین، ٹرانسپورٹ، صحت و تعلیم تک رسائی، شرح پیدائش کی بنیاد پر تیار اور پاکستان پاپولیشن کونسل کے انڈیکس نیسماجی، معاشی اور موسمیاتی خطرات سے حوالے سے اضلاع کی درجہ بندی کی ہے۔

بہتر کارکردگی والے اضلاع میں سسٹم کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے مطابق 11.

3 فیصد یا ایک کروڑ آبادی20 انتہائی کمزور اضلاع کے رہائشی ہے، 20 لاکھ کے قریب بالغ خواتین اور اتنی ہی تعداد5 سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق20 کم کمزور اضلاع میں13 پنجاب، 4 سندھ، 2 خیبرپختونخوا میں ہیں، بلوچستان میں ایک بھی کم کمزور ضلع نہیں۔

انتہائی کمزور اضلاع میں 2 سابق فاٹا، ایک سندھ، 17 بلوچستان میں ہیں، پنجاب میں کوئی ضلع انتہائی کمزور نہیں۔

چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ خطے میں آبادی کے اضافہ کی 2.55 فیصد بلند شرح تمام سٹیک ہولڈرز پر فیصلہ کن اقدامات کیلئے دبائو بڑھا رہی ہے، وہ اضلاع کم کمزور ہیں جوکہ انفراسٹرکچر کے ذریعے باقی ملک سے جڑے ہیں، ان پانچ اضلاع میں کراچی کے چار اور لاہور شامل ہیں۔

پانچ کمزور ترین اضلاع میں بلوچستان کے چار اضلاع واشک، خضدار، کوہلو، ژوب اور خیبر پختونخوا کا ضلع کوہستان شامل ہیں۔

انتہائی کمزور اضلاع میں واشک، خضدار، کوہستان، ژوب، کوہلو، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، قلات، تھرپارکر،شیرانی، جھل مگسی، نصیر آباد، چاغی، بارکھان، ہرنائی، آواران، خاران، شمالی وزیرستان اور پنچگور شامل ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق بہترین اضلاع کی حالت بہت اچھی نہیں، 20 انتہائی کمزور اضلاع میں17 کا بلوچستان میں رپورٹ کا بدترین پہلو ہے۔

رپورٹ میں ہائوسنگ کچے مکانات کا تناسب، ٹائلٹ اور صاف پانی کی سہولت کا فقدان، ایک کمرے پر مشمل گھر ہیں، 20 بدترین کارکردگی والے اضلاع کی 65 فیصد آبادی کچے عارضی گھروں کی مکین، ان میں نصف کو پائلٹ کی سہولت، 40 فیصد کی صاف پانی میسر نہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے صاف پانی، تعلیم اور محفوظ ہائوسنگ تک رسائی میں بڑھتی عدم مساوات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے کبھی نہیں سوال کیا کہ صاف پانی تک رسائی مشکل کیوں ہے؟صاف پانی، تعلیم، محفوظ گھر آسائشیں نہیں، بنیادی حق ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی متصل اضلاع میں پکی سڑکوں، ٹرانسپورٹ یا ٹیلیفون سروسز سے رابطے کا شدید فقدان ہے۔ بے روزگاری کے شکار 20 میں15 اضلاع بلوچستان میں، بلامعاوضہ ورکرز کا تناسب بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں زیادہ ہے ۔

رپورٹ کے مطابق دونوں صوبوں میں پسماندگی کی بلند شرح کی وجہ دونوں کا دہشتگردی کیخلاف سے زیادہ متاثر ہونا ہے۔

صحت کی سہولتوں کے فقدان کی بنیاد مراکز صحت، نجی ڈاکٹر کی گائوں سے دوری اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے دورے بنائے گئے ہیں، اس شعبہ میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا دونوں کمزور صوبے ہیں،جن کے اضلاع کے درمیان صحت کی سہولتوں کے حوالے سے گہری عدم مساوات ہے۔

تعلیم میں تدریسی سہولتوں سے فاصلے کو بنیاد بنایا گیا ہے، کراچی سکولوں تک رسائی میں پہلے، بلوچستان طویل فاصلوں کے باعث کمزور ترین ہے۔

شرح پیدائش پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی کارکردگی کمزور حالانکہ کمزور ترین تھرپارکر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتہائی کمزور اضلاع کمزور اضلاع میں رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بلوچستان اور صاف پانی مصدق ملک تک رسائی

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن