انتھروپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
مصنوعی ذہانت کے میدان میں سرگرم معروف امریکی کمپنی انتھروپک نے اپنے جدید ترین ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری کردیا۔
کمپنی کے مطابق اس کا مقصد کوڈنگ، خودکار ایجنٹس اور طویل المدتی کمپیوٹر منصوبوں میں دیگر اے آئی ماڈلز کو پیچھے چھوڑنا ہے۔
انتھراپک کے مطابق کلاڈ سونیٹ 4.5 خاص طور پر 30 گھنٹے سے زائد کے ملٹی-اسٹیپ پروجیکٹس کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ماڈل نے اوس ورلڈ اور دیگر بینچ مارکس میں 61.
کلاڈ سونیٹ 4.5 ورژن کی نئی سہولیات متعارف کروائی گئی ہیں جن میں کلاڈ کوڈ کے لیے نئے چیک پوائنٹس، کانٹیکسٹ ایڈیٹنگ کا نیا فیچر، کلاڈ اے پی آئی میں میموری سپورٹ، کوڈ لکھنے اور فائلز بنانے کی صلاحیت براہ راست کلاڈ ایپس کے اندر، کلاڈ ایجنٹ ایس ڈی کے کی ریلیز جس سے ڈیولپرز اپنے اے آئی ایجنٹس تیار کر سکتے ہیں اور میکس صارفین کے لیے کروم ایکسٹینشن کا اجرا شامل ہیں۔
انتھراپک نے Sonnet 4.5 کو موجودہ ایپس، APIs اور Claude Code میں فوری اور مؤثر تبدیلی کے طور پر استعمال کرنے کی سختی سے سفارش کی ہے۔
اوپن اے آئی کی مالی کارکردگیدوسری جانب انتھراپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں 4.3 ارب ڈالر آمدنی حاصل کرنے کی رپورٹ دی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہوئے کمپنی کی کیپیٹل برن (نقد اخراجات) 2.5 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اس مد میں کل 6.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
اوپن اے آئی کے پاس 17.5 ارب ڈالر کی نقدی اور سیکیورٹیز موجود ہیں۔
کمپنی کا سالانہ ہدف 13 ارب ڈالر آمدن اور 8.5 ارب ڈالر اخراجات کا ہے۔
نئی مونیٹائزیشن حکمت عملیآمدنی بڑھانے کے لیے اوپن اے آئی نے حال ہی میں چیٹ جی پٹی انسٹنٹ چیک آؤٹ پر فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے امریکی صارفین ایسٹی اور شاپیفائی کے بیچنے والوں سے چیٹ کے دوران ہی خریداری کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کلاڈ اے آئی کلاڈ نیا ماڈل لانچ ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر اوپن اے اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔