ٹرمپ کا امن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویز موجود ہوں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسحاق ڈار—فائل فوٹو
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا امن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویز موجود ہوں، اس ڈرافٹ میں ہماری تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں 64 ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد زخمی ہوئے ہیں، اس وقت وہاں خوراک، ادویات سمیت انسانی امداد نہیں پہنچا سکتے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ سے لوگوں کو زبردستی نکالا جا رہا ہے اور جو جا چکے ہیں ان کو واپس نہیں آنے دیا جا رہا، سعودی عرب، قطر، اردن، مصر، پاکستان، ترکی، انڈونیشیا سمیت 8 ممالک نے فیصلہ کیا کہ خاموشی سے غزہ کے معاملے پر سنجیدہ کوشش کریں گے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ حماس معاہدے کی مخالفت کرے گی، ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ وہ معاہدہ قبول کر لے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ 8 ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کی ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے ملاقات طے ہوئی، اس ملاقات سے پہلے ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے حکمتِ عملی بنائی، ٹرمپ نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں میری اور 8 ممالک کی ٹیم بیٹھ جائے اورپلان بنا لیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ آپ کے ذہن میں کیا ہے، ٹرمپ کی ٹیم نے ہمیں نکات دیے، ہم نے ٹرمپ کی ٹیم کو کہا کہ 24 گھنٹےمیں ہم ان نکات میں اپنی ترامیم پیش کریں گے، اس ڈرافٹ میں ہماری تجویز کردہ تمام ترامیم شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مشترکہ بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ہے، ہم نے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہنے کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو بھی دہرایا ہے۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر اپنے اس ایجنڈے کو حاصل کریں گے، ٹرمپ کا امن منصوبہ وہ نہیں جس میں ہماری ساری تجاویز موجود ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کے ساتھ ٹرمپ کی کی ٹیم
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔