Express News:
2026-07-24@10:11:48 GMT

شارٹ کٹ کوئی نہیں!

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

خبروں کا موسم بھی عام موسم کی طرح بدلتا رہتا ہے۔ آج کل اچھی خبروں کا موسم ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا پچھلے چند مہینوں میں ان بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ گرم جوش اٹھنا بیٹھنا ہے جن سے ملنے کے لیے کبھی ہفتوں، مہینوں بلکہ سالوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔

بار بار بتایا جا رہا ہے، وہ دن گئے کہ پاکستان کو معاشی مسائل اور عالمی تنہائی کا سامنا تھا،اب نیا دور ہے، سیکیورٹی معاملات میں بھی ہر چہ بادآباد ہے اور معاشی معاملات میں بھی۔

سیکیورٹی معاملات کے بارے میں بہت کچھ کہااور لکھا جا رہا ہے، تاہم ہمارا فوکس معاشی اقدامات اور مستقبل کے امکانات پر ہے۔

یادش بخیر 11/12 سال پہلے اسلام آباد میں ایک زوردار دھرنا ہوا تھا جس میں ایک نعرہ گونجا تھا: سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔ مولانا طاہر القادری نے ریاست بچانے کے لیے جو معاشی خاکہ پیش کیا، اس کی بنیاد پاکستان میں پائے جانے والے قیمتی معدنی ذخائر تھے۔

بعد میں جب بھی حکومتوں کا، معاشی مسائل سے جی گھبراتا ہے تو معدنی ذخائر کی افراط اور اربوں کھربوں مالیت کی نوید دل کے قرار کا باعث بنتی ہے۔ پی ڈی ایم ون کی حکومت نے اپنے آخری ہفتے میں پاکستان میں نئے معدنی ذخائر کی دریافت اور امکانات کا ایسا خوش کن نقشہ کھینچا کہ بن پیئے سرور والا معاملہ ہو گیا۔

پی ڈی ایم ٹو کی موجودہ حکومت نے بھی تین مرتبہ ان امکانات کو اس انداز میں پیش کیا کہ جیسے اب قوم کو مزید ہاتھ پاؤں مارنے کی ضرورت ہے اور نہ حکومت کو مزید کچھ تردد کرنے کی ضرورت۔

کھربوں ڈالرز کے وارے نیارے ہوں گے، سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئیں گے… اللہ اللہ خیر صلا۔ کہاں کا آئی ایم ایف؟ کون سی معاشی مشکل؟ کون سی بیڈ گورننس؟ اتنی معدنی دولت کے ساتھ مستقبل اس قدر تابناک ہو تو ڈر کاہے کا!سچی بات یہ ہے کہ بقول شاعر دل تو یہی چاہتا ہے کہ:

کچھ دن تَو بسو مری آنکھوں میں

پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا

کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو

پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا

لیکن پھر بقول فیض… لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے۔ پیش آمدہ معاشی منظر نامہ ان خوابوں میں گم رہنے میں حائل ہو جاتا ہے۔ ملک کا ایک کثیر حصہ سیلاب کی لپیٹ میں آگیا۔کروڑوں افراد کے گھر بار، مال مویشی، فصلیں اور کاروبار تہ و بالا ہوگئے۔

حکومتوں کی امداد اپنی جگہ لیکن زندگی کی چلتی گاڑی کو ڈی ریل ہونے کے بعد پٹڑی پر ڈالنے اور دوڑنے میں کافی وقت لگے گا۔اس ہفتے ورلڈ بینک نے بتلایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ مزید خط غربت سے نیچے جا گرے ہیں۔

برآمدات میں گزشتہ تین ماہ کے دوران11فیصد کمی ہوئی ہے۔ عالمی ٹریڈ امریکی ٹیرف اور جاری جنگوں کے سبب ہچکولے کھا رہی ہے، ایسے میں برآمدات پر جو تکیہ تھا وہ بھی سرک رہا ہے۔ رواں ہفتے ملک کے ایک معروف ٹیکسٹائل گروپ نے اعلان کیا کہ وہ اپنا اپیرل بزنس بند کر رہے ہیں۔

وجوہات میں کاروباری لاگت میں ناقابل برداشت اضافہ، اچھی کوالٹی کی مقامی کاٹن کی کمی، ناموافق حکومتی پالیسیوں کا بوجھ اور دنیا میں گردن توڑ مقابلہ۔ انڈسٹری ایسوسی ایشنز نے بھی خبردار کیا ہے کہ صنعتی پیداوار کے شعبے کو مہنگی بجلی، گیس سمیت دیگر پیداواری اخراجات میں اضافے نے بے حال کر دیا ہے۔

دوسری طرف بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ ملک بھر میں جمع کرائی گئی 50فیصد انفرادی انکم ٹیکس ریٹرن میں زیرو آمدنی ظاہر کی گئی ہے جب کہ ایف بی آر کے پاس ڈیٹا کے مطابق ان لوگوں کا شاہانہ لائف اسٹائل ہے، لگژری گاڑیاں ہیں، بڑے گھر ہیں ، انٹرنیشنل ٹریولنگ ہے مگر ٹیکس ذمے داری پر انھوں نے ملک کو ٹھینگا دکھایا ہے۔

اس لیے کہ انھیں معلوم ہے کہ ہونا کچھ بھی نہیں۔ دکھاوے کے چند نوٹس ووٹس، سخت بیانات کا راگ الاپ… اور بس۔ زیرو آمدنی سے ایکٹو ٹیکس اسٹیٹس مل گیا، کاروبار زندگی کے لیے یہی درکار تھا!

اسی ہفتے ایک رپورٹ کے مطابق قومی ائیر لائن نے 2007 سے 2018 کے درمیان کئی ہزار ٹکٹیں فری جاری کیں جن کی مالیت سکہ رائج الوقت کے مطابق کئی ارب روپے تھی۔ قومی املاک اور وسائل پر اشرافیہ کے تصرف کا یہی وطیرہ پبلک سیکٹر کارپوریشنز میں بھی جاری و ساری ہے۔

آڈیٹر جنرل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پبلک سیکٹر کارپوریشنز کا دو سال کا نقصان 1.

4 ٹریلین روپے سے بھی زائد رہا۔ بجلی کے سرکلر ڈیٹ کا 1.2 ٹریلین روپے کا نیا کمرشل قرضہ لے کر کامیابی سے ’’خاتمہ‘‘ کیا گیا ہے۔

ان چند مثالوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کے اصلاحات اور گڈ گورننس کے نعروں کی اصل حقیقت کیا ہے۔

ایسے میں حکومت خطیر معدنی ذخائر کی دستیابی اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو ایک انقلابی معاشی مشتقبل بتلا کر قوم کو بقول شخصے ’’ٹھنڈ‘‘ رکھنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے پاس ریکوڈیک میں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں rare earth elements کے امکانات ہیں اور تھر کا کوئلہ ہے۔

اندازہ ہے کہ صرف ریکوڈیک سے نکلنے والے ذخائر پینسٹھ ارب ڈالر مالیت کے ہیں لیکن کیا ہمارے پاس وہ ادارہ جاتی ڈھانچہ اور تکنیکی صلاحیت موجود ہے جو ان وسائل کو پائیدار ترقی میں بدل سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا مائننگ سیکٹر فرسودہ ٹیکنالوجی، کمزور قوانین اور بدعنوانی کا شکار ہے۔ بڑے منصوبے برسوں عدالتی تنازعات میں الجھے رہتے ہیں۔

حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ صرف ریکوڈیک کا تانبا اور سونا یا rare earth minerals کی کان کنی سے قرضے اتر جائیں گے اور لاکھوں نوکریاں پیدا ہو جائیں گی، تو یہ خوش فہمی ہے۔ ترقی اس وقت آتی ہے جب کوئی ملک اپنی معیشت میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرے، ٹیکس نیٹ کو وسیع بنائے، برآمدات میں تنوع پیدا کرے، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرے اور سب سے بڑھ کر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو فروغ دے۔

جاپان، سنگاپور، چین اور جنوبی کوریا نے اپنی معیشتیں معدنی وسائل پر نہیں بلکہ انسانی وسائل، تعلیم، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ پر کھڑی کیں۔

دنیا کا سبق یہی ہے کہ وسائل ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں اور بربادی کا بھی۔ یہ سب کچھ اداروں، پالیسیوں اور حکمرانی کے معیار پر منحصر ہے۔ اگر پاکستان نے چلی، بوٹسوانا اور آسٹریلیا کی طرح شفاف ادارے، معقول قوانین اورمتنوع معیشت کھڑی کی تو معدنی وسائل ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

لیکن اگر کانگو، نائجیریا اوروینزویلا کی طرح صرف وسائل پر انحصار اور بدانتظامی جاری رہی تو یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونامشکل ہے۔ پاکستان کو معدنی خواب دیکھنے کاحق ہے لیکن ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خود سخت محنت، شفاف حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہے کیونکہ ترقی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم