اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اکتوبر 2025ء) فناننشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشیروں نے امریکی حکام کے سامنے ایک پیشکش رکھی ہے، جس میں بحیرہ عرب میں ایک نئی بندرگاہ تعمیر کرنے اور اس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری امریکی سرمایہ کاروں کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

فناننشل ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک ایسے منصوبے کے تحت کی گئی ہے، جو پاکستان کے معدنی وسائل تک رسائی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق امریکی سرمایہ کار بلوچستان کے ضلع گوادر کے بندرگاہی شہر پسنی میں ایک ٹرمینل تعمیر کریں گے اور اسے چلائیں گے۔ پسنی شہر ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس کے معدنی وسائل کی دولت پاکستان کے لیے معاشی اہمیت رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

یہ پیشکش اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کمپنیوں سے زراعت، ٹیکنالوجی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی۔

اس مبینہ منصوبے کا فائدہ کیا ہو گا؟

فناننشل ٹائمز کے مطابق یہ تجویز بعض امریکی حکام کے سامنے رکھی گئی اور فیلڈ مارشل منیر کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تاکہ وہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اسے زیربحث لا سکیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں مجوزہ بندرگاہ کو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اس منصوبے کا مقصد ترقیاتی مالی اعانت حاصل کرنا اور بندرگاہ کو ریلوے کے ذریعے معدنی وسائل سے مالا مال صوبے بلوچستان کے دیگر علاقوں سے جوڑنا ہے تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہو۔

خبر رساں ادارہ روئٹرز فوری طور پر اس منصوبے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس بارے میں فوری تبصرہ نہیں کیا ہے اور پاکستانی فوج سے بھی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبے کی بدولت پاکستان کو مغربی ممالک سے براہ راست سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور ملک کے معدنی وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے اقتصادی ترقی میں تیزی آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ بلوچستان کے انفراسٹرکچر کے فروغ اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ