واشنگٹن میں موجود ڈان اخبار سے منسلک سینیئر صحافی انور اقبال کا کہنا ہے کہ انڈیا پر امریکا کی جانب سے پابندیوں کے بعد پاکستانی چاول اب امریکی مارکیٹوں میں نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیرف جنگ کے باوجود بھارت اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری

وی نیوز کے پروگرام وی ورلڈ میں بات کرتے ہوئے انور اقبال نے بتایا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات کی خرابی سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ س کی چھوٹی سی مثال کچھ یوں ہے کہ باسمتی چاول امریکا میں انڈیا سے آیا کرتا تھا لیکن اس وقت انڈین دکانوں میں بھی پاکستانی چاول نظر آ رہا ہے کیونکہ وہ سستا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت پر طویل المدتی امریکی پابندیاں لگتی ہیں تو پاکستان مصالحوں، گارمنٹس اور دیگر اشیا کی سپلائی بڑھا سکتا ہے لیکن اُس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی معیشت مضبوط ہو اور آپ امریکی مارکیٹ میں سستے داموں چیزیں پہنچا سکیں۔

’اس وقت دنیا پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کر رہی ہے‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان جو چاہ رہا تھا وہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے یہ چاہتا تھا کہ اسے انڈیا، ایران یا افغانستان کی عینک سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جائے جس نے دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود ایٹمی ہتھیار بنائے۔

انور اقبال نے کہا کہ امریکا میں پاکستان کی اہمیت آیا مشرقِ وسطٰی کے تناظر میں بڑھی ہے یا افغانستان کے تناظر میں، اس سوال کےجواب میں انور اقبال نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت، افغانستان کے ساتھ جو سرحد ہے اس حوالے سے بھی پاکستان کی اہمیت ہے لیکن جس طرح سے پاکستان نے بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی میں مؤثر طریقے سے اپنا دفاع کیا ہے اس سے اقوام عالم میں پاکستان کا قد بڑھا ہے پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو لگتا تھا کہ چین کو قابو میں رکھنے کے لیے اُسے بھارت کی ضرورت ہے لیکن بھارت کو قابو میں رکھنے کے لیے اُسے پاکستان کی بھی ضرورت ہے کیوںکہ بھارت قابو سے باہر نکل سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کی معدنیات میں امریکا کو دلچسپی ہے اس کی وجہ سے پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان نہیں چاہتا کہ وہ ماضی کی طرح کسی بلاک کے ساتھ الحاق کر کے کسی دوسرے بلاک کے خلاف جنگ کرے اور اب یہ پاکستان کو سوٹ نہیں کرتا اور نہ ہی امریکا یہ چاہتا ہے اور نہ چین یہ چاہتا ہے۔

انور اقبال نے کہا کہ اس وقت پاکستان پالیسی ساز اداروں کے پاس سنہری موقع ہے کہ پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کروائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط کرنی پڑے گی۔

مزید پڑھیے: بھارت امریکا تجارتی کشیدگی: مودی کی قوم سے اپنی مصنوعات استعمال کرنے کی اپیل

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی معیشت بہتر نہ ہو تو آپ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات میں بھی پاکستان کو اپنی معیشت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

’چینی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر پاکستان کا جنگ جیتنا بھی اہم بات ہے‘

انور اقبال نے کہا کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت فوجی کشیدگی میں امریکا نے پاکستان کی کوئی فوجی مدد نہیں کی اور پاکستان نے یہ جنگ چینی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جیتی جس نے امریکا کو سوچنے پر مجبور کیا اور امریکا کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان مکمل طور پر چین کے ساتھ شامل ہو جائے اور امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان پر اُس کا کچھ نہ کچھ اثر قائم رہے۔

 ’اسرائیل جانتا ہے اس کے اقدامات قانونی نہیں‘

اسرائیل کی جانب سے صمود فلوٹیلا پر حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل شروع سے ایک غیر مقبول ریاست ہے اور اُنہیں بھی پتا ہے کہ کل وہ مقبول ریاست نہیں بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے پاکستانی مندوب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ آپ ہماری مخالفت کریں گے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جانتا ہے کہ جب تک مغربی طاقتیں اُس کے ساتھ ہیں اُسے کچھ نہیں ہو سکتا اور اسرائیلیوں کو اپنی دفاعی طاقت، اپنے بین الاقوامی تعلقات پر بڑا بھروسہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سب ممالک کی باتوں کو جھٹلا کے سروائیو کر سکتے ہیں اس لیے اُن کے لیے اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اُن کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

’مغربی دنیا میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت میں کمی آ رہی ہے‘

انور اقبال نے کہا کہ نئی نسل کی وجہ سے مغربی دنیا میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت میں کمی آ رہی ہے اور اس کے لیے اسرائیلی پریشان بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مخالف مظاہروں سے نئی نسل کو دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسرائیل مخالف مظاہروں میں یہودی بھی شرکت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے 32 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا، چین اور بھارت کی فرمیں بھی متاثر

انہوں نے کہا کہ نئی نسل ابھی فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں اور جب وہ ہو جائے گی تو اسرائیل کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس وقت جو نسل حکمران ہے وہ اسرائیلی کی حمایت کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا میں پاکستانی چاول بھارت بھارت پر امریکی پابندیاں پاکستان سینیئر صحافی انور اقبال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارت پر امریکی پابندیاں پاکستان سینیئر صحافی انور اقبال انہوں نے مزید کہا کہ انور اقبال نے کہا کہ پاکستان کی اہمیت انہوں نے کہا کہ پاکستانی چاول کہنا تھا کہ پاکستان کو سے پاکستان کہ پاکستان کرتے ہوئے کہ امریکا کہا کہ اس کے لیے ا تھا کہ ا س کے لیے کے ساتھ کا کہنا ہے اور

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان