پشاور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صابر حسین اعوان کا کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین میں 80 ہزار انسانوں کے قتل عام میں امریکی صدر ٹرمپ نینتن یاہو کا اصل سہولت کار ہے۔ بحر اللہ خان کا کہنا تھا کہ اسرائیل و فلسطین کے حوالے سے دو قومی نظریہ قائداعظم محمد علی جناح رح کے ویژن اور ہماری قومی پالیسی سے متصادم ہے۔ اسلام ٹائمز۔  ماعت اسلامی پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت صمود فلوٹیلا کے دیگر شرکاء کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی اور صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان اور ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ کی قیادت میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد درویش پشاور کینٹ سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو خانہ فرہنگ ایران، پشاور کلب، چرچ روڈ اور ایئرپورٹ روڈ سے ہوتی ہوئی امریکن قونصلیٹ کے سامنے شمع چوک پہنچی، جہاں پر احتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز مظلومین غزہ کے لئے خوراک اور ادویات لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی نیوی نے عالمی قوانین کے خلاف ایک ایسے مقام پر حملہ کیا جو ان کی حدود سے باہر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس عالمی مشن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سنیٹر مشتاق احمد خان کو بھی دیگر سماجی کارکنان سمیت گرفتار کیا ہے جس کا حکومت پاکستان فوری نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اسرائیل گزشتہ دو سالوں سے غزہ اور فلسطین میں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے جس نے اب تک 80 ہزار بے گناہ شہریوں کو شہید ایک لاکھ سے زائد کو زخمی یا مغذور کیا ہے اور غزہ میں خوراک، ادویات اور رسد پہنچانے کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں جبکہ دوسری طرف طرف امریکی صدر ٹرمپ ان تمام مظالم اور انسانیت سوز مظالم میں اسرائیل اور نینتن یاہو کا سب سے بڑا سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ