پشاور، گلوبل صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
پشاور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صابر حسین اعوان کا کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین میں 80 ہزار انسانوں کے قتل عام میں امریکی صدر ٹرمپ نینتن یاہو کا اصل سہولت کار ہے۔ بحر اللہ خان کا کہنا تھا کہ اسرائیل و فلسطین کے حوالے سے دو قومی نظریہ قائداعظم محمد علی جناح رح کے ویژن اور ہماری قومی پالیسی سے متصادم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ماعت اسلامی پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت صمود فلوٹیلا کے دیگر شرکاء کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی اور صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان اور ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ کی قیادت میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد درویش پشاور کینٹ سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو خانہ فرہنگ ایران، پشاور کلب، چرچ روڈ اور ایئرپورٹ روڈ سے ہوتی ہوئی امریکن قونصلیٹ کے سامنے شمع چوک پہنچی، جہاں پر احتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز مظلومین غزہ کے لئے خوراک اور ادویات لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی نیوی نے عالمی قوانین کے خلاف ایک ایسے مقام پر حملہ کیا جو ان کی حدود سے باہر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس عالمی مشن میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سنیٹر مشتاق احمد خان کو بھی دیگر سماجی کارکنان سمیت گرفتار کیا ہے جس کا حکومت پاکستان فوری نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اسرائیل گزشتہ دو سالوں سے غزہ اور فلسطین میں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے جس نے اب تک 80 ہزار بے گناہ شہریوں کو شہید ایک لاکھ سے زائد کو زخمی یا مغذور کیا ہے اور غزہ میں خوراک، ادویات اور رسد پہنچانے کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں جبکہ دوسری طرف طرف امریکی صدر ٹرمپ ان تمام مظالم اور انسانیت سوز مظالم میں اسرائیل اور نینتن یاہو کا سب سے بڑا سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔