انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخ کہنے پراسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کو نوٹس جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینیئر محمد علی مرزا کو اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد میں گستاخ کہنے کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل سے 5 نومبر کو عدالتی معاونت طلب کر لی جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔
جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں مستند علما تھے، انہوں نے کہا وہ گستاخ ہے۔ عدالت نے پوچھا آپ ملزم کا کیسے دفاع کر رہے ہیں؟ ملزم خود اسلامی نظریاتی کونسل کی قرار داد کوچیلنج کیوں نہیں کر رہا؟ درخواست گزار نے کہا ایسے فتوے پہلے مجھ پر بھی لگے ہیں، میں بھی اس طرح کے معاملے سے گزر چکا ہوں۔
’’ پنجاب کے معاملات کی ذمہ دار ہوں،اس کیلئے فائٹ بھی کروں گی ‘‘وزیراعلیٰ مریم نواز کی نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء اورفیکلٹی ممبرزسے ملاقات میں گفتگو
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انجینیئر محمد علی مرزا نے سب کی منجی ٹھوکی ہوئی ہے اس لیے اسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، اس طرح تو وہ اس کو ماردیں گے، اسے کم از کم پہلے کورٹ میں تو پیش کیا جائے، بغیر وضاحت کے کسی کو کیسے مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے؟جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا لیکن اُن پر مقدمہ تو جہلم میں درج ہے۔ درخواست گزار نے کہا اسلامی نظریاتی کونسل یہاں ہے، میں نے اس کی قردارار کو چیلنج کیا ہے۔
عدالت نے پوچھا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کیسے پہنچا کسی نے ریفر کیا تھا ؟ درخواست گزار نے بتایا نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے معاونت کے لیے مراسلہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا حالانکہ قانون کے مطابق صدر، گورنر یا پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کو رائے مانگنے کے لیے لکھ سکتی ہے۔ عدالت نے کہا ریکارڈ آ جائے تو پتہ چل جائے گاالزامات کیا ہیں اور بیان تھا کیا؟ اٹارنی جنرل کو سن کر پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کریں گے۔ کیس کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
گورنر ہاؤس لاہور میں’’پنجاب انسدادِ شدت پسندی ایکٹ 2025‘‘ کے حوالے سے پالیسی ڈائیلاگ،پروفیسرز، علماء اور طلباء کی شرکت
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل درخواست گزار نے کہا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی