data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251007-06-23
کراچی(پ ر) عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر اور معروف قبائلی شخصیت سید امان شاہ نے ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی پالیسی سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی میں اقتصادی فیصلے سیاسی مفادات کی نذر ہوتے رہے جس کی وجہ سے آج ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ سید امان شاہ نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے بغیر پاکستان کی معیشت کبھی بھی مستحکم نہیں ہوسکتی۔ قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے کو اگر جدید انفراسٹرکچر، تعلیمی مواقع اور سرمایہ کاری کی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم نہیں کیے جارہے۔ اگر حکومت ہنر مندی کے فروغ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سپورٹ کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش ماحول دینے کیلئے عملی اقدامات کرے تو پاکستان کو معاشی بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی عوامی امنگوں کی نمائندہ جماعت ہے اور وہ ہر سطح پر معاشی انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم