لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان بھی اپنے عہدے سے مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھیج دیا جنہوں نے مخدوم علی خان کو اس اہم کمیشن کا رکن مقرر کیا تھا۔مخدوم علی خان نے اپنے استعفے میں کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد نوجوان وکلاء کے چہروں پر جو اداسی چھائی ہے، اسے میں محسوس کر رہا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال تھا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ہم زوال سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر حقیقت نے ثابت کیا کہ ہم بے خبری کا شکار تھے۔مخدوم علی خان نے اس استعفے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں زخموں سے چور ہو چکا تھا، مگر پھر بھی ڈوبنے نہیں دیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ وکالت کامیاب ہوگی اور حالات میں بہتری کا راستہ نکلے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مخدوم علی خان آزاد عدلیہ کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔