لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھیج دیا جنہوں نے مخدوم علی خان کو اس اہم کمیشن کا رکن مقرر کیا تھا۔مخدوم علی خان نے اپنے استعفے میں کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد نوجوان وکلاء کے چہروں پر جو اداسی چھائی ہے، اسے میں محسوس کر رہا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال تھا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ہم زوال سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر حقیقت نے ثابت کیا کہ ہم بے خبری کا شکار تھے۔مخدوم علی خان نے اس استعفے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں زخموں سے چور ہو چکا تھا، مگر پھر بھی ڈوبنے نہیں دیا تھا۔ مجھے امید تھی کہ وکالت کامیاب ہوگی اور حالات میں بہتری کا راستہ نکلے گا.

لیکن مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ 27 ویں ترمیم نے آزاد عدلیہ کا جہاز مکمل طور پر ڈبو دیا ہے اور اب آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی اصلاح ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون و انصاف کمیشن کا قیام ہمیشہ اس مقصد کے لیے تھا کہ ہم قوانین کی اصلاح کریں مگر آزاد عدلیہ کے بغیر اس کا عمل ممکن نہیں اب میں کمیشن کا حصہ نہیں بن سکتا۔مخدوم علی خان کا یہ استعفیٰ آئینی اصلاحات اور آزاد عدلیہ کے حوالے سے ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ آیا ان تبدیلیوں سے عدلیہ اور قانون کے نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: مخدوم علی خان آزاد عدلیہ کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی