سعودی عرب کے ساتھ معاشی مذاکرات، پاکستان نے اعلی سطحی کمیٹی بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سعودی عرب کے ساتھ معاشی مذاکرات، پاکستان نے اعلی سطحی کمیٹی بنا دی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان کی حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعلقات اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی مشترکہ صدارت وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق مسعود ملک اور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد، نیشنل کوآرڈینیٹر برائے سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کریں گے۔
گذشتہ چند مہینوں میں پاکستان نے دوست ممالک، خصوصا سعودی عرب کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کوششیں تیز کی ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے پانچ ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کا وعدہ کر رکھا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا مشترکہ چیئرپرسنز سعودی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنیادی/مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دیں گے۔
یہ ٹیمیں تفویض کردہ ذمہ داریوں پر تیز رفتاری سے عمل درآمد اور نفاذ کی ذمہ دار ہوں گی۔نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام اراکین اور نمائندگان چھ اکتوبر سے دستیابی یقینی بنائیں اور وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ایس آئی ایف سی اراکین کے سفری منظوری کے معاملات کو اسی دن ایک گھنٹے کے اندر مکمل کیا جائے۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پیش رفت کی 15 روزہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے، جب کہ ایس آئی ایف سی سیکریٹریٹ انتظامی معاونت فراہم کرے گا۔کمیٹی کے دیگر اراکین میں وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وزیر برائے تجارت جام کمال خان، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان شامل ہیں۔اس کے علاوہ ریاض میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید اور سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش سیاسی بیان بازی: ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم سیاسی بیان بازی : پیپلز پارٹی کا سینیٹ سے واک آ ئوٹ ، لیگی قیادت سے معافی کا مطالبہ شام، بشارالاسد کے بعد پہلا الیکشن، احمد الشرع نے خود 70 ارکان نامزد کرلیے پی ٹی آئی نے حافظ نعیم کا عمران خان سے متعلق بیان بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا فرانسیسی وزیراعظم نے صرف 26 دن بعد عہدے سے استعفی دے دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں