حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی روابط اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔

عرب میڈیا کے مطابق اس وقت وسیع پیمانے پر خیال کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض اس ماہ کے دوران ایک جامع اقتصادی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ بھی ہو چکا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عشروں پرانی سیکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی۔

یہ بھی پڑھیں: ’سعودی وژن 2030 اور دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے ممکنہ ترقی کی نوید ثابت ہو سکتے ہیں‘

سعودی عرب میں چونکہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات موجود ہیں، اس وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ قریباً 26 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں اور کام کرتے ہیں، جو جنوبی ایشیائی ملک کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان نے دوست ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری روابط کو مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سعودی عرب نے 5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج کا وعدہ کیا ہے، جس کی پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور مسلسل جاری ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی مشترکہ صدارت وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک اور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کریں گے، جو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ کونسل ایک سول ملٹری ادارہ ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کی نگرانی کرتا ہے۔

کمیٹی کو پابندی کیا گیا ہے کہ وہ ہر 15 روز بعد پیش رفت رپورٹ وزیراعظم کو جمع کرائےگی، جبکہ ایس آئی ایف سی سیکریٹریٹ انتظامی معاونت فراہم کرےگا۔

کمیٹی کے دیگر ارکان میں وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وزیر برائے تجارت جام کمال خان، وزیر برائے قومی خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت دیگر شامل ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے مشترکہ چیئرمین سعودی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے مرکزی ٹیمیں تشکیل دیں گے جو تیز رفتاری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گی جبکہ اراکین کی دستیابی 6 اکتوبر 2025 سے یقینی بنائی جائے گی۔

مزید کہا گیا کہ کمیٹی کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کا دائرہ دفاع اور توانائی سے بڑھ کر ماحولیات اور موسمیاتی استحکام کے شعبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی پاکستان کو برآمدات حالیہ برسوں میں پاکستانی برآمدات سے کہیں زیادہ رہی ہیں۔ 2023 میں سعودی عرب کی پاکستان کو برآمدات کا تخمینہ قریباً 4.

65 ارب ڈالر تھا، جبکہ پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات اس سے کہیں کم تھیں، جن میں چاول سمیت دیگر اشیا شامل تھیں جن کی مالیت قریباً 138 ملین ڈالر تھی۔

سال 2024 میں پاکستان کی سعودی عرب کو کل برآمدات قریباً 734 ملین ڈالر رہیں، جن میں اہم اشیا اناج اور گوشت شامل تھے، جبکہ سعودی عرب کی پاکستان کو برآمدات میں ریفائنڈ پیٹرولیم اور کیمیائی مصنوعات شامل تھیں۔

گزشتہ اکتوبر سعودی سرمایہ کاری وفد کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی اور سعودی کاروباری افراد کے درمیان قریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے 34 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس، سعودی وفد کی توجہ کا مرکز کیا تھا؟

حال ہی میں ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ اعلیٰ حکام کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان رواں برس پاکستان کا اہم دورہ کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان دوطرفہ معاہدہ سعودی عرب سعودی ولی عہد شہباز شریف شہزادہ محمد بن سلمان کمیٹی قائم وزیراعظم پاکستان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان دوطرفہ معاہدہ سعودی ولی عہد شہباز شریف کمیٹی قائم وزیراعظم پاکستان کی پاکستان کو سعودی عرب کے سرمایہ کاری کو برآمدات کے درمیان کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل