پنجاب میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا، گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
لاہور: پنجاب بھر میں ایک بار پھر گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس نے جہاں گرمی اور حبس کا زور توڑ دیا ہے وہیں نظامِ زندگی بھی متاثر کر کے رکھ دیا۔
صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت جنوبی اور وسطی پنجاب کے متعدد شہروں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے موسم خوشگوار کر دیا ہے مگر کئی علاقوں میں سڑکیں اور نشیبی بستیاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
لاہور، ساہیوال، وہاڑی، پیرمحل، چیچہ وطنی، جڑانوالہ، اوکاڑہ، شجاع آباد، احمد پور شرقیہ، بورے والا، پتوکی اور ننکانہ صاحب سمیت درجنوں شہروں میں بادل گرجنے اور تیز ہوائیں چلنے کے بعد موسلا دھار بارش برسی، جس سے سردی کی ابتدائی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے گرمی سے نجات پر سکھ کا سانس لیا لیکن دوسری جانب کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے آمد و رفت میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔
موسلا دھار بارش کے باعث مختلف شہروں میں بجلی کے درجنوں فیڈر ٹرپ کر گئے جس سے کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔ وہاڑی، چیچہ وطنی، بورے والا اور پتوکی میں بجلی معطلی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ شہریوں کو پانی کی نکاسی کے لیے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر شدید تحفظات ہیں۔
لاہور کے نشیبی علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام رہا۔ شجاع آباد اور پیرمحل میں شدید بارش کے دوران ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بعض مقامات پر گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ نیا سلسلہ مون سون کے اختتامی مرحلے کا حصہ ہے، جو پورے صوبے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا۔ اگلے 2 دن کے دوران بہاولپور، ملتان، فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بھی مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برقی تنصیبات کے قریب احتیاط برتیں۔ بارش سے موسم خوشگوار ضرور ہوا ہے مگر بجلی کی معطلی، ٹریفک جام اور پانی کے نکاس کے مسائل ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان